فرانس میں سڑکوں پر ہراسانی: سکرٹ میں ملبوس خاتون پر دن دیہاڑے حملہ

فرانس میں پولیس اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں سٹراس برگ کی ایک خاتون کے مطابق سکرٹ پہننے کی وجہ سے ان پر دن دیہاڑے پر حملہ کیا گیا۔

بائیس سالہ طالبہ الزبتھ کا کہنا ہے کہ ’تین افراد نے انہیں چہرے پر مکا مارا اور کہا کہ میں نے سکرٹ کیوں پہنی ہے۔ ‘

حکومت نے اس واقعے کو انتہائی سنجیدہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔

سنہ 2018 میں سڑکوں پر ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون کی منظوری کے بعد سے 1800 واقعات میں جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

فرانس کے ایک ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں الزبتھ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر جا رہی تھیں کہ تین آدمیوں میں سے ایک نے کہا کہ ’دیکھو اس نے سکرٹ پہنی ہوئی ہے۔‘

پھر دو آدمیوں نے انہیں بازوؤں سے پکڑا اور تیسرے نے ان کے منہ پر مکا مارا جس سے ان کی آنکھ پر نیل پڑ گیا۔

اس واقعے کے بعد وہ آدمی وہاں سے فرار ہو گئے۔

الزبتھ کا کہنا تھا کہ درجن سے زیادہ لوگ اس واقعے کے عینی شاہد ہیں لیکن کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔

بدھ کو جونیئر وزیر داخلہ مارلین سچیپا نے مشرقی شہر کا دورہ کیا اور وہاں عوامی مقامات پر خواتین کے تحفظ کے حوالے سے حکام سے بات چیت کی۔

ان کا کہنا تھا ’اس حملے کے لیے نہ تو سکرٹ ذمہ دار ہے اور نہ عورت۔‘

’ایک عورت کو کبھی اس لیے نہیں مارا گیا کہ اس نے سکرٹ پہنی ہے۔ ایک عورت کو اس لیے مارا جاتا ہے کیونکہ یہاں کچھ لوگ ہیں جو زن بیزار، جنس پرست اور متشدد ہیں، جو خود کو ہر قانون اور شہری اصول سے آزاد سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اگر وہ کبھی ایسا واقعہ یا خواتین کے خلاف کسی قسم کا سڑکوں پر یا عوامی مقامات پر ہراس ہوتے دیکھیں تو پولیس کو بلائیں۔‘

جمعرات کو بھی ایک مشرقی شہر مل ہاؤز میں دو خواتین پر حملے کی اطلاعات ملیں۔ اس واقعہ میں بھی ایک شخص نے ان سے کہا کہ ان کی سکرٹ بہت چھوٹی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: