محدود سے لا محدود

یہ ایک ایسا گھرانہ تھا جہاں لگی بندھی آمدنی آتی تھی۔ والد گھر کے واحد کفیل تھے، یہ اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنے والد کا گھر جوانی میں چھوڑا تھا۔ والد بتاتے تھے کہ وہ گھر سے ایک چھوٹا سا کپڑوں کا بیگ لیے بڑے شہرچلے گئے۔ ان کے خیال میں یہ ایک بڑا شہر تھا اس لیے ان کے پاس اپنے آپ کو منوانے کے لیے زیادہ مواقع تھے۔ کچھ ہی ماہ میں انہیں یہ احساس ہو چکا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے شہر میں بھی رہتے تو اسی رفتار سے آگے بڑھتے، لیکن شاید زہنی سکون زیادہ ہوتا۔ انسان ایک بار ضد میں جو قدم اٹھا لیتا ہے وہ واپس نہیں لیتا۔ یہ ضد ہی ہے جو اسے ہر روز آگے کے سفر کی جانب روانہ رکھتی ہے۔ وہ روزانہ اپنی ضد کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتے رہے۔ پھر ایک دن انہیں ایک بابا جی مل گئے جنہوں نے انہیں اپنی شاگردی میں لے لیا۔ اور انہیں ایک ایسا علم سکھایا کہ وہ تمام عمر اسی علم کو زریعہروزگار بنا کر باآسانی گزار سکتے تھے۔ شادی کی اپنا گھر بنایا اور بیگم کو ایک روایتی سوچ کے تحت گھر بٹھا دیا۔ ایک ایسا وقت آیا کہ جن والدین سے الگ ہوئے تھے انہیں ماہانہ خرچ بھی دیتے تھے۔ اپنے بچوں اور بیوی کو ایک اچھی زندگی دینے کے لیے انہوں نے اپنے کام کے اوقات سولہ سے اٹھارہ گھنٹے کر رکھے تھے۔ انہیں لگنے لگا کہ محدود وسائل کے چھوٹے سے شہر اور گھر کو چھوڑنا درست فیصلہ تھا۔ وہ اپنے آپ میں نہ صرف مطمئن تھے بلکہ خوش بھی تھے۔ ان کے بچپن کے ساتھی لوگ ان کی خوشگوار زندگی پررشک کرتے۔ 

بچے بڑے ہو رہے تھے۔ اپنے والد کو محنت کرتا دیکھ کر کبھی ان پر فخر کرتے اور کبھی تقدیر سے گلہ کرتے۔ بچے شہر کے نجی اداروں میں پڑھ رہے تھے۔ اس لیے ان کے آس پاس وہ بچے تھے جن میں زیادہ تر امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت کوشش کے باوجود یہ فرق مٹ نہیں پاتا تھا۔ اب اپنے گھرانے کی محدود آمدنی کا احساس بڑھ رہا تھا۔ ان کے ساتھ پڑھنے والے دوست بتاتے تھے کہ میں تو دو تین سال میں باہر چلا جائوں گا، کسی کے ماموں وہاں تھے تو کسی کے تایا، اور والدین نے پہلے سے ہی ان کے بنک اکائونٹ میں اعلی تعلیم کے لیے روپیہ جمع کر رکھا تھا۔ وہی والد جس پر فخر کرتے تھے، اس کو طعنہ ملنے لگا کہ اپ نے کیا ہی کیا ہے۔ یہ بچے جو اپنی بنیادی تعلیم سے آگے دنیا کی مہنگی یونیرسٹیز میں جانا چاہتے تھے انہیں لگنے لگا تھا کہ والدین کی غربت اور محبت دونوں ان کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ والد کا خیال تھا کہ اب بچے اپنے پائوں پر کھڑے ہوں گے اور جیسے انہوں نے خود اپنا مستقبل تعمیر کیا، یہ بچے بھی ایسا ہی کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ والد یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ بچے اکیلے دھکے کھائیں۔ مگر کیا کیا جا سکتا تحا بچوں کو یہ ملک اور اس کے وسائل ویسے ہی محدود نظر آرہے تھے جیسا کہ تیس برس پہلے والد کو اپنا شہر محدود نظر آتا تھا۔

انسانی نسلوں میں معاشی اور معاشرتی ترقی کا رجحان ایک خوش آئند امر ہے۔ لیکن ایک مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں وسائل کی تقسیم برابر نہیں ہو پائی۔ یہ کہنا کسی ھد تک درست ہے کہ جتنی محنت کی جائے اتنا ہی وسائل کا حصول ممکن ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دہقان اور مزدور سب سے زیادہ وسائل حاصل کرتے، تجارت اور صنعت و حرفت نے معاشرتی ومعاشی ترقی میں جو غیر متوازن صورتحال بنا دی ہے اس میں محنت نہیں بلکہ وسائل ہی مزید وسائل کو جنم دیتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقات کے لیے معاشی و معاشرتی ترقی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک سے دوسری نسل میں انیس بیس ہی کا فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ چند ایک مثالوں کو معاشرے کا عکس قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہرنسل اپنے تئیں بہت لمبا سفر طے کرتی ہے۔ اور سفر کے آخر میں پتہ چلتا ہے کہ یہ سب ایک دائرے کا سفر ہی تھا۔ محدود وسائل اور سوچ کے انسان کبھی لا محدود خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: