میں بھی رونا چاہتا ہوں

میں امریکی شہری نہیں لہذا یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ پچھلے چار برس میں امریکہ کیوں اوپر سے نیچے تک تقسیم ہو گیا۔ آدھے امریکی کیوں ٹرمپ کے ساتھ تھے اور باقی آدھوں نے بائیڈن کو کیوں منتخب کیا۔ مگر بائیڈن کی جیت کے اعلان پر کروڑوں ناظرین کی طرح میں نے بھی سی این این کے سیاہ فام نیوز کمنٹیٹر وان جونز کی متشکر آنکھوں کو لائیو نشریات میں روتے دیکھا۔

وان جونز کہہ رہے تھے کہ ’آج میرے لیے بطور باپ اپنے بچوں کو سمجھانا آسان ہے کہ کیریکٹر کتنا اہم ہے۔ سچائی میں کتنی طاقت ہے۔ مثبت سوچ کے کیا فوائد ہیں۔ اگر آپ مسلمان ہیں تب بھی بے فکر ہو کر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو صدر کو پسند نہیں۔ جو لوگ مسلسل تکالیف میں مبتلا رہے آج ان کے موقف کی فتح کا دن ہے۔ جارج فلائیڈ سانس نہیں لے سکا مگر اس جیسے بے شمار (سیاہ فام) لوگ کہہ سکتے ہیں کہ اب ہم سانس لے سکتے ہیں۔ اب آپ کے بچے گھر سے باہر نکلیں تو انھیں نسل پرستانہ نگاہوں اور تبصروں کا سامنا شاید کم کرنا پڑے۔ شاید وہ اپنی بکھری زندگی پھر سے مجتمع کر سکیں۔ ہم جیسوں کے لیے یہ کم نہیں کہ ہماری روزمرہ زندگی میں کچھ سکون آ جائے۔ میں اپنے بچے کو اب بتا سکتا ہوں کہ گھٹیا ہونا اگرچہ بہت آسان ہے مگر ایک دن یہی گھٹیا پن پلٹ کر آپ کو ڈس بھی سکتا ہے۔‘

امریکی

وان جونز کی طرح میں بھی اس دن خوشی سے رونا چاہتا ہوں جب میں یہ دیکھوں کہ جو امریکی ووٹروں نے اپنے ملک کی بہتری کے لیے پسند کیا۔ ویسے ہی امریکہ باقی دنیا کی خوشی کے لیے بھی پسند کرے۔

جس طرح وان جونز جیسے امریکیوں کو اپنے ذہنی استحصال اور مسخرے پن اور قدامت پرستی کے عذاب سے گزرنا پڑا۔اسی طرح باقی دنیا بھی امریکہ کے دوہرے معیار، سفاک خود غرضی اور اپنے مطلب کے لیے سیاہ کو سفید ثابت کرنے کے رویے سے نجات پا کر خوشی سے پرنم ہونا چاہتی ہے۔

وان جونز کی طرح میرے وطن جیسے بیسیوں ممالک کے کروڑوں لوگ بھی اس دن کے انتظار میں ہیں جب ہمارے ہاں بھی سچائی چار برس چھوڑ چار دن کے لیے ہی جھوٹ پر فتح پا لے۔

غریب بچے

جب یہاں بھی ہمدردی کے چولے میں چھپی سفاکی کا گریبان چاک ہو۔ جب ہمارے ہاں بھی کوئی ایسا ادارہ ہو جو کذب کے ہاتھوں پر بیعت سے انکار کر دے۔ ہماری قسمت میں بھی کوئی ایسا رہنما آئے جو چند نمائشی اختیارات کی خاطر خود کو سستا نہ بیچے، اپنی انفرادی فلاح کو اجتماعی خوشحالی کے دھوکے میں لپیٹ کر یہ دھوکہ خریدنے والوں کو ہی نیلام نہ کرے۔

میں اس لمحے کے لیے کچھ آنسو بچا کے رکھنا چاہتا ہوں جب مقدس عباؤں میں ملبوس نظریہ فروشوں کے ریوڑ میں سے کوئی ایک ہی کھڑا ہو جائے جو اندھیروں کو روشنی کہہ کر نہ بیچے اور کہہ دے کہ اب کاروبارِ جہالت مزید نہیں چل سکتا۔ جو دوسروں کو قربانی کی عظمت بتا کے نامعلوم کی جانب ہنکالنے کے بجائے خود کو اور اہلِ خانہ کو آگے کر دے۔

میں بھی اس دن بہت رونا چاہتا ہوں جب مجمع میں سے ایک شخص چیخ اٹھے بادشاہ ننگا ہے۔ اور باقی مجمع اس کے منھ پر ہاتھ رکھنے کے بجائے بیک زبان کہے ہاں بادشاہ ننگا ہے۔ ہمارے نوالے چھیننے کے بعد بھی بادشاہ بھوکا ہے۔ ہم سب کے کپڑے اتار کر بھی بادشاہ ننگا ہے۔

میں نہ تخت گرانا چاہتا ہوں نہ تاج اچھالنا چاہتا ہوں۔ بس وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں جب میری چارپائی پر کسی کی نظر نہ ہو اور مجھے اپنی دستار پر اپنا ہی ہاتھ مسلسل نہ رکھنا پڑے۔ کوئی میرا خدا مجھ سے چھین کر اپنا خدا مجھ پر مسلط نہ کرے اور مجھے حق الیقین ہو کہ میرا بچہ جس طرح مسکراتا ہوا گھر سے گیا ہے ویسے ہی شام کو صحیح سلامت سالم لوٹ آئے گا اور کہیں سائے میں نہیں بدل گیا۔

میں بس ایک بار مارے خوشی کے رونا چاہتا ہوں۔ اس سے پہلے کہ میری آنکھوں میں دکھ کے لیے بھی آنسو نہ بچیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: