اب کے سال اچھا ہے-نظم

جب نظر پڑی میری آج پھر کلینڈر پر
تب پتا چلا مجھ کو، آخری دسمبر ہے
یعنی آخری دن ہے یہ برس گزرنے کا
شور یہ محلے کا، دوڑتے ہوئے بچے
سالِ نو کی آمد سے جوش میں بھرے ہیں سب
ساری سڑکیں روشن ہیں
رنگ برنگی لائٹ سے
لگ رہا ہے کہ جیسے کوئی غم نہیں ہے اب
کوئی بھی پریشانی اب نہیں بچی جیسے
لیکن اب بھی الجھا ہوں، خوف ہے کوئی مجھ کو
مجھ کو ہے پریشانی، میں ابھی بھی کھویا ہوں
پھر یہ کون ہیں کہ جو
خوف کے بھی سائے میں
اس قدر پریشانی، اس قدر اذیت میں
سالِ نو کی آمد کے منتظر بھٹکتے ہیں
اور ایک میں بھی ہوں
انتہا کی سوچوں میں اب بھی ڈوبا بیٹھا ہوں
سوچتا ہوں سالِ نو ہم پہ کیسا گزرے گا
کیا گزشتہ سالوں سا
پھر سے کیا وہی نفرت اپنے رنگ دکھائے گی
کیا وہ بھوک اور آفت پھر قدم جمائے گی
کیا رہے گی بیماری پھر وہی کورونا کی
پھر تمام گلیوں میں کیا پھریں گے سناٹے
کیا اسی طرح سب پھر اپنی جان کھوئیں گے
جیسے لاکھوں لوگوں نے پہلے جان کھوئی تھی
پھر سے قبضہ آ کر کے موت کیا جمائے گی
کیا اسی طرح سے پھر یہ بھی سال گزرے گا
جس طرح اداسی میں پچھلے دو برس گزرے
ختم ہو گی مایوسی
یا ابھی بھی باقی ہے
کچھ خبر نہیں لیکن اب بھی میرے اندر میں
ایک آس باقی ہے
اور مجھ کو غالب کا ایک مصرعہ یاد آیا
کہہ رہا ہے اک برہمن، اب کے سال اچھا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: