نورا فتیحی نے ڈانسر کی نامناسب حرکت پر خاموشی توڑ دی

مراکشی نژاد کینڈین ڈانسر نورا فتیحی نے بھارتی ڈانسر و کوریوگرافر ٹیرنس لیوس کی جانب سے ریئلٹی شو کے دوران نامناسب حرکت کرنے پر خاموشی توڑتے ہوئے واقعے کی وضاحت کردی۔

بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق گزشتہ چند دن سے بھارتی سوشل میڈیا پر نورا فتیحی اور ٹیرنس لیوس کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

ویڈیو میں ٹیرنس لیوس کو شو کے دوران نورا فتیحی کے جسم پر بظاہر غیر ارادی طور پر نامناسب انداز میں ہاتھ پھیرتے ہوئےدیکھا جا سکتا تھا۔

مذکورہ ویڈیو ریئلٹی شو (ڈانس انڈیا ڈانس) کی تھی، جس میں نورا فتیحی کو اداکارہ ملائیکا اروڑا کی جگہ کاسٹ کیا گیا تھا۔تحریر جاری ہے‎

ملائیکا اروڑا کو کورونا کی وجہ ڈانس انڈیا ڈانس سے کچھ وقت الگ ہونا پڑا اور اسی دوران عارضی طور پر نورا فتیحی کو کاسٹ کیا گیا۔

View this post on Instagram

A Zen Master and his disciples of monks were walking in the Himalayas back to their monastery. On their way to the monastery they had to cross the river Ganga flowing fully though less violently.  There was an young beautiful maiden in distress, sitting close to the banks, whose village was just across the river. She was scared to cross the river by herself so she asked the elder monk to help her cross the river. "Sure" said the Zen Master and held her up in his arms. They crossed the river and he let her down gently as she went to her village after thanking the Master. The younger monk wasn't taking this all easily. He looked little worried. The monks came to their monastery after couple of hours of difficult walk in the hills, but the younger monk was still not settled. Sensing it the Guru asked him what the matter was. The young monk said "Master, we have sworn of not touching a woman, but you carried her in your arms, you tell us not to think of women but you touched her" complained the disciple. The Zen Master smiled n replied "I carried her across the river and left her on the other side. Are You Still Carrying Her ? " 🙏🏽 . . . Thank you @norafatehi for being the most elegant, dignified n classy guest judge & for your implicit trust in me! #zen #philosophy #pathofleastresistance #loveandkindness #indiasbestdancer @sonytvofficial #dance #norafatehi #terencelewis

A post shared by Terence Lewis (@terence_here) on

ڈانس انڈیا ڈانس شو کے دوران ایک موقع پر نورا فتیحی اور ٹیرس لیوس ایک ساتھ سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس دوران مرد ڈانسر عرب خاتون ڈانسر کے جسم پر بظاہر غیر ارادی طور پر نامناسب طریقے سے ہاتھ پھیرتے ہیں۔

ڈانسر و کوریوگرافر ٹیرس لیوس نے نورا فتیحی کے ساتھ مذکورہ پروگرام کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ عرب ڈانسر کو گوڈ میں اٹھائے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

مذکورہ تصویر شیئر کیے جانے اور ویڈیو وائرل ہونے پر بھارتی افراد نے ٹیرس لیوس پر نورا فتیحی کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا۔

زیادہ تر افراد نے ٹیرس لیوس اور نورا فتیحی کی ویڈیو کلپ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ٹیرس لیوس پر خوب تنقید کی۔

لوگوں کی تنقید کے بعد نورا فتیحی نے بھی معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے مذکورہ واقعے کی وضاحت کی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد نورا فتیحی نے اپنے ایک کمنٹ میں ٹیرس لیوس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں ڈانس ریئلٹی شو میں بطور جج کام کرنے پر فخر ہے۔

نورا فتیحی نے ٹیرس لیوس کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ بھی سوشل میڈیا پر بننے والے میمز اور تنقید سے پریشان نہیں ہوئے اور انہوں نے بہترین انداز میں ان کا ساتھ دیا۔

نورا فتیحی نےاپنے کمنٹ میں ٹیرس لیوس کی جانب سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیرے جانے کا کوئی ذکر نہیں کیا، البتہ لکھا کہ انہیں ٹیرس لیوس اور ڈانس انڈیا ڈانس کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

واضح رہے کہ نورا فتیحی مراکش میں پیدا ہوئیں، تاہم ان کی زیادہ کا زیادہ وقت کینیڈا میں گزرا اور ان کے پاس دونوں ممالک کی شہریت ہے۔

نورا فتیحی نے 2014 میں بھارت میں ماڈلنگ، اداکاری و ڈانس کیریئر کا آغاز کیا اور اب تک وہ ہندی سمیت ملایلم، تیلگو اور تامل فلموں میں مختصر کرداروں سمیت ان میں آئٹم گانے کر چکی ہیں۔

انہیں سب سے زیادہ شہرت ’دلبر دلبر‘ کے ریمیک سے ملی، بعد ازاں ان کا گانا ’کمریا‘ بھی ریلیز ہوا، جس کے بعد ان کا گانا ’ساقی‘ بھی ریلیز ہوا۔

نورا فتیحی نہ صرف بھارت بلکہ مشرق وسطیٰ کی بھی معروف ڈانسر ہیں اور انہوں نے ’دلبر‘ کے عربی ورژن سمیت کئی عربی گانوں میں شاندار پرفارمنس کرکے لوگوں کے دل جیتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: