کاش پاکستانی اور ہندوستانی رویّے بدل سکیں

پاکستان اور ہندوستان کی دشمنی کی بنیاد کیا ہے؟ یہ کہنا تو بیکار کی بات ہے کہ ہندوستان ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کرتا۔ نہ ہمارا وجود اتنا کمزور ہے نہ ہندوستان اتنا طاقتور کہ یہ وجود خطرے میں پڑ جائے۔ کشمیر کا تنازعہ ضرور ہے لیکن ملکوں میں مسائل ہوتے ہیں اور انہیں حل کرنے کا راستہ ڈھونڈا جاتا ہے اور اگر کوئی ممکنہ حل نہ ہو تو کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے باوجود صلح صفائی سے رہا جائے۔
کشمیر کے بارے میں ایک چیز ہمارے ذہنوں میں ہونی چاہیے کہ جو سرحدیں بن چکی ہیں وہ تبدیل نہیں ہوں گی۔ لائن آف کنٹرول ہے تورہے گی، سیالکوٹ اور جمّوں کے درمیان ورکنگ باؤنڈری ہے وہ رہے گی۔ ماضی میں کوشش ہوئی کہ سرحدیں بزورِ بازوتبدیل ہوں لیکن ممکن نہ ہوا۔ نہ پاکستان وادیِ کشمیر پہ قبضہ کرسکا نہ ہندوستان آزاد کشمیر کا علاقہ ہم سے لے سکا۔ پاکستان اور ہندوستان کی جنگوں کا سب سے اہم نتیجہ یہ نکلا کہ جو زمینی حقائق ہیں وہ اورپختہ ہو گئے۔ اس صورتحال میں مارے گئے تو بیچارے کشمیری۔ اُن کی زندگیاں اجیرن ہوگئیں۔ موجودہ کشمیر کی صورتحال سے نہ پاکستان کوکچھ ہورہا ہے نہ ہندوستان کو۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی تکالیف بڑھ گئی ہیں۔
اس صورتحال کا حل کیا ہے؟ جنگیں تو ہو چکیں، کچھ حاصل نہ ہوا۔ پاکستان اور ہندوستان ایٹمی طاقتیں بن گئے، اس سے کشمیر کا مسئلہ حل کیا ہونا تھا زیادہ سرد خانے میں پڑ گیا۔ اس تناظر میں مسئلہ کشمیر کا واحد حل پاکستان ہندوستان دشمنی کی کمی میں پنہاں ہے۔ دونوں ممالک کے حالات اتنے معمول پہ آ جائیں کہ لائن آف کنٹرول ایک ہارڈ بارڈر کی بجائے سافٹ بارڈر بن جائے۔ آمدورفت آسان ہوجائے، تجارت بڑھے، بغیر ویزوں کے کشمیری اِدھر اُدھر جاسکیں۔
یہ اور بات ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ایسی حکمران جماعت ہے جس کی سوچ بڑی ہارڈ لائن اور متعصبانہ ہے۔ وہ کشمیریوں کو کچلنا چاہتی ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی جتنی بھی طاقتورنظر آئے وہ ہندوستان کی تقدیر نہیں ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہٹلر جرمنی کی تقدیر نہیں بن سکا۔ کشمیریوں نے ہندوستان کی طرف مائل نہیں ہونا۔ ہونا ہوتا تو ایسی صورتحال کب کی ہوچکی ہوتی۔ اوربالفرض بی جے پی کا اقتدار طویل ہوتاہے پھر بھی کشمیر کی سرحدوں نے تبدیل نہیں ہونا۔ نہ ہندوستان کر سکتا ہے نہ پاکستان۔ کشمیریوں کی زندگی میں کچھ آسانیاں تبھی آسکتی ہیں اگر پاکستان اور ہندوستان کی مخاصمت میں تھوڑی کمی آئے۔
ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے کر بحیرہ عرب کے پانیوں تک ہندوستان اور پاکستان کا آمنا سامناہے۔ فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں۔ پاکستان کی آرمڈ ڈویژنز کا رخ ہندوستان کی طرف ہے اورہندوستان کی سٹرائیک ڈویژنزکا رخ پاکستان کی طرف۔ ہماری جنگ کی تیاری ہے تو ایک دوسرے کے خلاف۔ لیکن سوال اُٹھتاہے کہ یہ ساری تیاری کس لئے ہے۔ کیا ہم ہندوستان پہ حملہ کرنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کا مطمحِ نظر پاکستان کو تباہ کرنا ہے۔ مخاصمت کا کوئی مقصد ہونا چاہیے۔ ہماری دشمنی بے مقصد ہے۔ یہ درست ہے کہ مفروضے دونوں طرف سے گھڑے گئے ہیں اوراُن مفروضوں کی بنیاد پہ دشمنی کی ایک عمارت تشکیل دی گئی ہے لیکن دیکھا جائے تو یہ مفروضے حقیقت پہ کم اور وہ جو انگریزی کا لفظ پیرانویا (paranoia) ہے‘ اس پہ مبنی زیادہ ہیں۔
دشمنی کی بنیاد تھی تو تقسیم ہند کے وقت۔ وہ کہانی ہوچکی۔ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔ تقسیم کا ہنگامہ ختم ہوا اور ابھی پنجاب میں خونریزی ہورہی تھی تو بانیِ پاکستان محمدعلی جناح کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات معمول کے ہوں۔ ایک موقع پہ تو انہوں نے یہاں تک کہاکہ دونوں ممالک کے تعلقات ایسے ہونے چاہئیں جیسے ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کے ہیں۔ پاکستان کے بن جانے کے بعد وہ ملک میں مذہب کی بنیاد پہ کسی تفریق کے قائل نہ تھے۔ اُن کی مشہورِ زمانہ 11اگست 1947ء کی تقریر‘ جو انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں کی‘ کا لب لباب یہی ہے کہ عبادت کیلئے جہاں جانا ہے جاؤ، مندر میں یا مسجد میں‘ اس کا تعلق مملکت کے کاروبار سے نہیں ہے۔ تم برابر کے شہری ہو لیکن عقیدے کے لحاظ سے آزاد ہو۔
یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ قائد کے ان افکار کو مسخ کیاگیا اور پاکستان کو ایک مذہبی ریاست کی شکل دینے کی مسلسل کوششیں ہوتی رہیں‘ لیکن اب وقت بہت بیت چکا ہے۔ وہ جو گھسا پٹا جملہ ہے کہ دریاؤں میں پانی بہت بہہ چکاہے۔ یہ جو قدرت کی طرف سے آفت آئی ہے جس کانام COVID-19 ہے اس نے دنیا کی شکل بدل دی ہے۔ بہت سی سچائیاں اور بہت سے مفروضے خاک میں مل گئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو دیکھ لیجیے۔ مدہم نہیں پڑ گیا یا کم از کم ہیڈلائنوں سے غائب ہو گیا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں جولفظی جنگ جاری رہتی ہے اس کا زور بھی تھوڑا کم ہوگیا ہے۔
ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آئندہ کے مسائل اور ہوں گے۔ پانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگا۔ ماحولیات اورکلائمیٹ چینج بڑے مسئلے ہوں گے۔ ایسے میں ہماری دشمنی کا مقصد کیارہ جاتاہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان ہندوستان کے نیچے لگ جائے۔ ایسی سوچ پاکستان میں کیونکر کارفرما رہتی ہے؟ ایک انتہا سے دوسری انتہا تک پہنچنے میں ہم دیر نہیں لگاتے۔ معمول کے حالات سے کہاں یہ مطلب آگیا کہ ہم کسی کے نیچے لگ جائیں۔ دشمنی کی شدت میں کمی کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آنکھیں بندکرکے ہم اگلے کے گلے لگ جائیں۔ مسائل ہمارے ہوں گے۔ اُن پہ کڑی نگاہ ہمیں رکھنی چاہیے۔ اپنے مفادات کا ڈٹ کے تحفظ کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بے جاکی جنگی ہتھیاروں کی دوڑ‘ اس میں توکوئی عقلمندی یا مقصد نظر نہیں آتا۔
ٹھیک ہے کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ہم اکیلے امن کے نعرے نہیں لگا سکتے‘ لیکن ہندوستان میں جیسی بھی حکومت ہو پاکستان کو دانشمندی کا سہارا لینا چاہیے۔ ہمارا ایٹمی ذخیرہ اتنا ہے کہ ہمیں کسی طرف سے کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ شمالی کوریا کے پاس تھوڑے سے ایٹمی ہتھیار ہیں اوروہ امریکا کو للکارتا ہے۔ ہمارے پاس تو شمالی کوریاسے کہیں بڑا ذخیرہ ہے۔ اس حقیقت سے ہمیں اعتماد ملنا چاہیے۔ ویسے بھی ہماری عسکری قوت ہماری ضروریات کے مطابق کافی سے زیادہ ہے۔ یہ جو باتیں ہیں کہ ہندوستان ایسے حملہ کر سکتا ہے اور فلاں کر سکتا ہے اس خول سے ہمیں نکلنا چاہیے۔ سوئٹزر لینڈ بھی تو ہے، غیرجانبدار ملک ہے، کسی سے دشمنی نہیں لیکن فوجی اعتبار سے اُن کی تیاری ہمیشہ رہتی ہے۔ نیوٹرل ہونے کے باوجود اپنے دفاع سے سوئٹزرلینڈ کبھی غافل نہیں رہا۔ ہر حال میں چوکس رہنا چاہیے‘ لیکن یہ خواہ مخواہ کی باتیں ہیں کہ فلاں ملک ہمارے وجود کے درپے ہے، 72 سال بعد بھی ہمیں اپنے وجود پہ یقین نہیں آیا تو کبھی نہیں آئے گا۔
نیشنل پالیس، سکیورٹی پالیسی، فارن پالیسی، ہرچیز کو ہندوستان کے زاویے سے دیکھناکہاں کی عقلمندی ہے۔ ہم تو برملا ہندوستان کودشمن کا رتبہ عطا کرتے ہیں۔ روس نہیں کہتاکہ اس کا دشمن امریکا ہے۔ چین نہیں کہتاکہ اس کا دشمن امریکا یا کوئی اورملک ہے۔ ہم نے ہندوستان کو اپنے سروں پہ سوار کیا ہواہے۔ ہاں مسئلہ کشمیر ہے لیکن اس کاحل جنگ نہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں پہ بُری گزرے تو ہمیں دُکھ ضرور ہوگا لیکن اس کا حل بھی یہی ہے کہ ہمارے باہمی تعلقات معمول کے ہوں۔ اس وبا کی وجہ سے اب تو ہر چیز بند ہے۔ ملک کے ملک لاک ڈاؤن میں ہیں لیکن جب بیماری کا زور تھمے اور کچھ سمجھ آئے کہ اسے قابو میں کیسے لانا ہے پھر تو کچھ نہ کچھ پہل معمول کے تعلقات کی طرف ہونی چاہیے۔ بسیں چلیں، ٹرینیں چلیں، تجارت کو فروغ حاصل ہو، لوگ اِدھر اُدھر آ جا سکیں۔ ہمارے کچھ طبقات کویہ باتیں اچھی نہیں لگتیں لیکن کیا اس حقیقت سے انکارممکن ہے کہ ہمارے شکلیں ملتی ہیں، ہم ایک دوسرے کی زبان سمجھتے ہیں، ہمارے کلچر کے بہت سے پہلو مشترک ہیں۔ دشمنی بھی رکھیں تو مقصد کی‘ بے مقصد کی لڑائی کا کیا فائدہ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *