عمران خان کا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

ayaz sadiqپاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے ان کے حلقے این اے -122میں ووٹوں کی تصدیق مکمل ہونے تک مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
این اے-122 ان چار حلقوں میں شامل ہے جہاں پی ٹی آئی ووٹوں کی تصدیق اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کر رہی ہے۔صادق نے خان کو 2013 کے عام انتخابات میں شکست دی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی نے الیکشن نتائج کو چیلنج کر دیا تھا۔
پیر کو جاری ہونے والے ایک بیان میں عمران خان نے این اے-122کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی اور انگھوٹوں کی تصدیق کے لیے نہ کھولنے پر الیکشن ٹربیونل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔عمران نے تعجب کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی کے سپیکراخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ووٹوں کے تصدیقی عمل کے بجائے آخر کیوں عدالتوں میں ایک کے بعد ایک سٹے آرڈر کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔انہوں نے نادرا کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حلقہ پی پی-147 ،جو این اے 122 کے اندر پڑتا ہے، وہاں ووٹوں کی گنتی کے حوالے سے تحقیقات میں گھپلے کے شواہد ملے تھے۔
رپورٹوں کے مطابق، اب تک کھلنے والے چھ پولنگ سٹیشنز میں 4726 میں سے3267 ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی کو معلوم ہوا تھا کہ 696 ووٹوں کے کاؤنٹر فوائلز پر لکھے شناختی کارڈ نمبر بھی جعلی تھے۔عمران نے مزید بتایا کہ چھ پولنگ سٹیشنز میں 69 فیصد ووٹ بوگس پائے گئے۔پی ٹی آئی چیئر مین کے مطابق، دلچسپ بات یہ ہے کہ پی پی -147 کے 117 پولنگ سٹیشن این اے-122 کے اندر پڑتے ہیں جہاں سے انہوں نے مقابلہ لڑا۔ان چھ پولنگ سٹیشنز میں صحیح سیاہی استعمال نہ کیے جانے کی وجہ سے 1590 کاؤنٹر فوائلز ایسے بھی تھے جن پر انگھوٹوں کے نشان غیر معیاری تھے۔انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ٹرابیونل کے جج نے ان چھ پولنگ سٹیشنوں پر گھپلے کے شواہد ملنے کی صورت میں پورے پی پی-147 میں تصدیقی عمل کرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن فراڈ کو بے نقاب کرے گی کیونکہ عوام کو جاننے کا حق ہے کہ آخر کس نے ان کا مینڈیٹ چوری کیااوردھاندلی کے بے نقاب ہونے اور اس میں ملوث لوگوں کو سزا ملنے تک مستقبل میں الیکشن اصلاحات بے معنی ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *