قطر فٹبال ورلڈ کپ: آمرانہ حکومتیں اور فیفا کی متنازع تاریخ

جب 12 سال قبل قطر کو سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے چنا کیا گیا تھا تب سے اس ملک کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کے سبب اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

قطر پر تنقید صرف ملک کے خواتین اور ہم جنس پرستوں کے حقوق پر موقف کی وجہ سے ہی نہیں (کیونکہ قطر میں ہم جنس پرستی جرم ہے) بلکہ وہاں ورلڈکپ کے لیے سٹیڈیم تیار کرنے والے غیر ملکی مزدورں کے کام کے حالات پر بھی ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان حالات کو غیر انسانی اور غلامی کے مترادف قرار دیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چیمپیئن شپ کا انتظام کرنے والی تنظیم فیفا (انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹ بال) کا قطر پر حکومت کرنے والی مطلق العنان بادشاہت کی طرف رویے نے بھی متعدد مظاہروں کو جنم دیا ہے۔

فٹبال کی عالمی تنظیم عام طور پر میزبان ممالک پر مختلف قسم کے قواعد نافذ کرتی ہے جو اکثر ان ممالک کے مقامی قوانین سے متصادم ہوتے ہیں تاہم قطر میں فیفا نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے دو دن قبل شاہی حکومت کی جانب سے سٹیڈیموں میں شراب کی فروخت پر پابندی کے اعلان کو بغیر کسی رکاوٹ کے قبول کر لیا اور کھلاڑیوں پر میچوں کے دوران کسی بھی قسم کے مظاہرے پر پابندی لگا دی۔

جرمنی کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس پابندی کے خلاف علامتی احتجاج کرتے ہوئے ٹیم کے پہلے میچ کی آفیشل تصویر کے دوران اپنے منھ کو ڈھانپ لیا تھا۔

ٹیم کے بہت سے ارکان میچ کے دوران ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے ’ون لو‘ بریسلٹ پہن کر کھیلنا چاہتے تھے لیکن فیفا نے اس بریسلٹ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی تھی۔

یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو میں تاریخ کے پروفیسر اور فٹبال کے کھیل کے مؤرخ فلاویو ڈی کیمپوس کہتے ہیں ’فیفا کو انسانی حقوق سے کوئی سروکار نہیں کیونکہ یہ کاروبار کے لیے ضروری نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جب سرگرمیاں یا پروگرامز کا انعقاد کرنے کی بات آتی ہیں تو تنظیم یہ تمام مسائل ایک طرف رکھ کر بہت عمل پسندی کا مظاہرہ کرتی ہے۔‘

کیمپوس نہ صرف قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کی طرف اشارہ کرتے ہیں بلکہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ پہلی ورلڈ کپ چیمپئن شپ کے بعد سے فیفا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والی آمرانہ حکومتوں کے ساتھ تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ہم ان میں سے کچھ حکومتوں کے ساتھ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔

فٹبال

ارجنٹائن 1978

سنہ 1978میں ارجنٹائن پر ایک ظالمانہ فوجی آمریت تھی جو دو سال قبل ایک بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آئی تھی۔ فیفا نے اس کے باوجود اس ملک میں ورلڈکپ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔

کیپموس کہتے ہیں کہ ’اگرچہ وہاں بڑے پیمانے پر تشدد اور ظلم ہو رہا تھا پھر بھی ورلڈ کپ وہاں کھیلا گیا تھا۔ حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کر سکتی ہے اس سے کوئی غرض نہیں ہے جب تک پیسہ بنایا جا سکتا ہے اور اقتصادی عمل طاقتور ہے۔‘

اس وقت ملک کی سیاسی صورتحال کافی غیر مستحکم تھی اور ملک میں لاپتہ نوجوانوں کی مائیں اکثر مظاہرے کر رہی تھیں۔

ارجنٹائن میں اس وقت فٹبال کے عالمی مقابلے کا انعقاد مختلف تنازعات اور مسائل میں گھرا رہا تھا جیسا کہ آخری وقت تک بہت سے سٹیڈیم کھیلنے کے لیے تیار نہیں تھے اور بعض میں نئی لگائی گئی گھاس میچوں کے دوران ہی اکھڑ گئی تھی۔

حکومت پر ارجنٹائن کی قومی ٹیم کی حمایت کا الزام بھی لگایا گیا تھا کیونکہ دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ میزبان ٹیم کے تمام میچ بیونس آئرس میں کھیلے گئے تھے جبکہ ان کے مخالفین کو ملک بھر کا سفر کرنا پڑا تھا۔

اگرچہ ارجنٹائن کے انتخابات برسوں پہلے ہوئے تھے، لیکن آمریت کے جرائم کی وجہ سے فیفا کے اس وقت کے صدر جواؤ ہیولنج پر ٹورنامنٹ کا مقام یورپ منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کیمپوس بتاتے ہیں کہ ایسا آپریشن نا ممکن نہیں ہوتا، جیسا کہ اس کے بعد ہوا تھا جب 1986 میں کولمبیا ورلڈ کپ کی میزبانی سے دستبردار ہوگیا تھا اور اسے میکسیکو میں منعقد کیا گیا تھا۔

سنہ 1978 کا فٹبال ورلڈکپ کا جشن بھی بنا کسی احتجاج کے نہیں ہوا تھا۔

فٹبال

یونیورسٹی آف برازیلیا میں تاریخ کے پروفیسر میٹیوس گامبا ٹوریس بتاتے ہیں کہ ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے لیے ایک مضبوط مہم چلائی گئی تھی۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’بہت سے بین الاقوامی مظاہرے ہوئے تھے۔ کچھ کھلاڑی بائیکاٹ میں شامل ہوئے اور کھیلنے نہیں گئے۔ اور دیگر جنھوں نے شرکت کی انھوں نے پلازہ ڈی میو میں ہونے والے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔‘

مؤرخ نے اس وقت ارجنٹائن پر حکومت کرنے والے آمر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’فائنل میں پہنچنے والی ڈچ ٹیم نے اعلان کیا کہ اگر وہ جیت گئے تو وہ وڈیلا سے ورلڈکپ کی ٹرافی وصول نہیں کریں گے۔‘

بالآخر ایک مقامی ٹیم یہ ورلڈکپ جیتی تھی اور آمر نے ہی انھیں ٹرافی دی تھی۔

اٹلی 1934

سنہ 1934 میں دوسرا فیفا ورلڈ کپ فاشسٹ آمر بینیٹو مسولینی کی حکومت میں اٹلی میں منعقد ہوا تھا۔

مسولینی اپنے ملک کی میزبانی کے لیے اس قدر عزم رکھتے تھے کہ انھوں نے فیفا کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک جنرل، جیورجیو ویکارو، کو اطالوی فٹ بال فیڈریشن کا صدر مقرر کیا۔

ویکارو نے ایونٹ میں بڑی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا، اور 1932 میں اٹلی نے سویڈن کو ورلڈکپ کی میزبانی کے مقابلے میں شکست دی تھی۔

فٹبال

روس 2018

کیمپوس روسی صدر ولادیمیر پوتن کو بھی ایک آمرانہ حکومت کے نمائندے کے طور پر دیکھتے ہیں جن کے ساتھ فیفا نے روس 2018 کے ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے شراکت داری کا فیصلہ کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ کاغذوں میں روس ایک جمہوری ملک ہے اور وہاں انتخابات ابھی بھی ہوتے ہیں مگر اسے ایک آمرانہ حکومت تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ ولادیمیر پوتن جو گذشتہ 22 سال سے ملک پر حکومت کر رہے ہیں انھوں نے اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے بے شمار میکانزم بنائے ہیں۔‘

سنہ 2018 میں بھی، یوکرین پر حملے سے بہت پہلے، پوتن کے روس کو سیاسی مخالفین پر ظلم و ستم، پریس کو کنٹرول کرنے، ہم جنس پرست برادری کی جانب سخت ماحول اور نگرانی کے طریقہ کار کے استعمال پر پہلے ہی تنقید کا سامنا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ اس پر معلومات پر کنٹرول اور امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات بھی تھے۔

’بہت زیادہ جمہوریت‘

مطلق العنان آمریت والے ممالک میں ورلڈ کپ کا انعقاد یہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت کی کمی کو نہ صرف ایک مسئلہ سمجھا جاتا ہے بلکہ تاریخ دانوں کے مطابق اسے فیفا کے مثبت پہلو کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

خود فیفا نے پہلے ہی اعتراف کیا ہے کہ وہ ’بہت زیادہ جمہوریت‘ کو ایک ’مسئلہ‘ سمجھتی ہے۔

سنہ 2013 میں تنظیم کے اس وقت کے جنرل سکریٹری جیروم والکے نے کہا تھا کہ ’بہت زیادہ جمہوریت‘ ورلڈ کپ کی تنظیم میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

والکے نے ایک تقریب میں اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں کچھ کہنے جا رہا ہوں جو کچھ عجیب ہے لیکن کم جمہوریت کبھی کبھی ورلڈ کپ کے انعقاد کے لیے بہتر ہوتی ہے۔‘

قطر فٹبال

انھوں نے کہا تھا کہ ’جب آپ کے پاس ایک مضبوط سربراہ مملکت ہے جو فیصلے کر سکتا ہے جیسا کہ پوتن 2018 میں کر سکتے ہیں، یہ ہمارے لیے، منتظمین کے لیے آسان ہے۔‘

انھوں نے سنہ 2014 میں برازیل میں ایونٹ کے انعقاد میں دشواریوں کی طرف اشارہ کیا، جس میں ورلڈکپ کے خلاف احتجاج اور 2014 کے ورلڈ کپ سے قبل سٹیڈیم کی تعمیر میں مزدوروں کی ہڑتال شامل تھی۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’برازیل میں مختلف لوگ، مختلف تحریکیں اور مختلف مفادات ہیں، اور ان حالات میں ورلڈ کپ کا انعقاد کافی مشکل تھا۔‘

بی بی سی نے اس وقت فیفا سے والکے کے بیان اور آمرانہ حکومتوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر تنقید پر تبصرہ کرنے کو کہا، لیکن جواب نہیں ملا تھا تاہم، کئی مواقع پر فیفا کے موجودہ صدر گیانی انفانٹینو نے ادارے کے موقف اور قطر کے تارکین وطن مزدوروں، ہم جنس پرست افراد اور خواتین کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے تنقید کا جواب دیا ہے۔ انفانٹینو نے، جو سوئس اور اطالوی ہیں، ورلڈکپ کے افتتاح کی شام 19 نومبر کو دوحہ میں ایک تقریر میں یقین دلایا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ کسی کے خلاف امتیازی سلوک برتنا کیا ہوتا ہے اور یہ کیسا محسوس ہوتا ہے کیونکہ ’ان کے بال سرخ ہونے اور ان کے چہرے پر جھریاں ہونے پر انھیں بھی سکول میں تنگ کیا جاتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آج میں خود کو قطری، ایک عرب، ایک افریقی، ایک ہم جنس پرست، ایک معذور محسوس کرتا ہوں، میں خود کو ایک تارکِ وطن مزدور محسوس کرتا ہوں۔‘

انفانٹینو نے ایک اور موقع پر اس بات کی بھی تصدیق کی کہ قطر میں ورلڈ کپ کا انعقاد ایک مثبت چیز ہے کیونکہ اس تقریب کی طرف مبذول ہونے والی توجہ کی بدولت ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے ’بہت سی پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

فیفا نے کیا حاصل کیا

پروفیسر کیمپوس کا خیال ہے کہ فیفا کے پاس آمرانہ حکومتوں والے ممالک کا انتخاب کرنے کی ایک اقتصادی وجہ ہے کیونکہ ایسے ملک بڑی سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ جمہوری ممالک میں عام طور پر تقریب کے لیے عوامی پیسے کے استعمال کے بارے میں زیادہ شفافیت اور جانچ پڑتال ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف برازیلا سے تعلق رکھنے والے میٹیس گامبا ٹوریس کہتے ہیں کہ ’آمرانہ حکومتیں بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتی ہیں، ان کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ذرا دیکھیں کہ قطر نے 2022 میں کتنی سرمایہ کاری کی (220,000 ملین امریکی ڈالر، تاریخ کا سب سے مہنگا ورلڈ کپ) اور 1978 میں ارجنٹائن نے ان ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ سرمایہ کاری کی تھی جنھوں نے اس کا انعقاد چار اور آٹھ سال بعد کیا تھا۔‘ ٹوریس بتاتے ہیں کہ ’ایک آمرانہ ملک میں ہر چیز کو سینسر کیا جاتا ہے، کوئی ڈیٹا ظاہر نہیں کیا جاتا۔ کارکنان ہڑتال پر جانے پر بھی غور نہیں کرتے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے سختی سے دبایا جاتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’فیفا کو انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سٹیڈیم ٹکٹ فروخت کرنے کے لیے تیار ہوں، سپانسر شپ فروخت کریں۔‘

اس کے ساتھ ساتھ وہ کہتے ہیں کہ آمرانہ حکومتوں میں کاروباری نقطہ نظر سے بھی کچھ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ایک آمریت میں استحکام اور معاہدوں کی تعمیل کا فقدان ہے۔ مثال کے طور پر شراب پر پابندی کو ہی لے لیں جس کا اعلان قطر نے ورلڈ کپ شروع ہونے سے دو دن پہلے کیا تھا۔ یہ سپانسرز کے لیے اچھا نہیں ہوا ہو گا۔‘ کیمپوس کہتے ہیں کہ ’وہ اپنی تقاریر میں کہہ سکتے ہیں کہ ورلڈ کپ کی بدولت انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن یہ منافقانہ ہے، کیونکہ فیفا نے کبھی بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔

’اور وہاں فٹبال ورلڈکپ کے انعقاد کا فیصلہ کر کے وہ ان حکومتوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔‘