مولانا فضل الرحمان کے قافلے پرخودکُش حملہ، دو کارکن جاں بحق

fazluبلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قافلے پرخود کش حملے میں ان کے دو کارکن جاں بحق ہو گئے جبکہ مولانا بال بال بچ گئے۔ کالعدم شدت پسند تنظیم جندُاللہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ حملے میں دو درجن سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب مولانا فضل الرحمان مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کے بعد واپس جا رہے تھے۔ پولیس نے اس حملے کو خودکش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تقریباً آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
آئی جی بلوچستان محمد عملش نے میڈیا سےبات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر حملے کی کوئی دھمکی وصول نہیں ہوئی تھی لیکن ان کی کی حفاظت کے پیش نظر میں نے انہیں اپنی ذاتی بلٹ پروف گاڑی دی ہوئی تھی اور اسی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھماکے سے محفوظ رہے ہیں تاہم ان کی گاڑی کو نقصان پہنچا۔
مولانا فضل الرحمان نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ یہ خودکُش دھماکا تھا جس میں میری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے میری گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ گاڑی بم پروف ہونے کی وجہ سے وہ اور ان کے محافظ حملے میں محفوظ رہے اور اس وقت اپنی جماعت کے ایک عہدیدار کے گھر پر موجود ہیں۔
یاد رہے کہ یہ آج کوئٹہ میں پیش آنے والا تیسرا ناخوشگوار واقع ہے۔اس سے قبل آج صبح کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہزار گنجی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس کے بعد کوئٹہ کے علاقے قمبرانی روڈ پر ایک دھماکے کے نیتجے میں کم سے کم دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *