گوانتانا مو کی کہانی قیدی کی زبانی

guantanamoگوانتاناموبے میں قائم امریکی قید خانے کے 13برس مکمل ہونے پر ، بھوک ہڑتالیں کرنے والے ایک قیدی، ایماد حسن نے وہاں ملنے دی جانے والی اذیت کا حال سنایا۔رہائی کے احکامات جاری ہو چکنے کے باوجودایماد کو تاحال رہا نہیں کیا گیا۔
یمنی قیدی ایماد حسن، جو 2007ء سے بھوک ہڑتال کئے ہوئے ہے اور 2009ء سے اس کی رہائی کے احکامات آ چکے ہیں مگر اسے گوانتانا موبے کاقید خانہ ختم کئے جانے کے بعد امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے اور تاحال رہا نہیں کیا گیا، این جی او ،ریرپرائیو سے تعلق رکھنے والے اپنے وکیل کے نام اپنے ایک حالیہ خط میں لکھتا ہے کہ’’وہ4گھنٹوں تک ہمیں ٹارچر والی کرسی پر باندھے رکھتے۔۔۔۔2گھنٹے صبح اور2گھنٹے شام۔۔‘‘
’’وہ ہمیں مجبور کرتے کہ ہم تھوڑا تھوڑا اور آہستہ ہستہ کھائیں لیکن اگر سیاحوں نے آنا ہوتا تو ہمیں کہا جاتا کہ ہم نے 5منٹ میں اپنا کھانا ہر صورت ختم کرنا ہے۔‘‘
’’ہمیں کئی برس قبل بے قصور قرار دے دیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود ہم ابھی تک مقید ہیں! وہ ہمیں ہمارے آبائی ممالک میں نہیں بھیجتے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے آبائی ممالک ہمیں ٹارچرکریں گے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ یہ خود اتنے برس سے ہمارے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
برطانوی شہری شاکر عمار بھی ابھی تک مقید ہے حالانکہ اسے بھی 2007ء میں ہی بے قصور قرار دے دیا گیا تھا۔
’’ریپرائیو کے سٹریٹجک ڈائریکٹر اورگوانتانا مو کے قیدیوں کے وکیل کوری کرائیڈرکا کہنا ہے، ’’گوانتانا مو نے ہم سب کو شرمندہ کر دیا ہے۔ صرف ایسا نہیں کہ یہ قید خانہ ہمیں اپنی سالگرہ کے روز ہی شرمندگی کا شکار کرتا ہے بلکہ ہر گزرتا ہوا دن جب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ آج بھی ہم شاکر عمار جیسے بے گناہوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہیں تو ہمارے پاس شرمندگی کے سواء کچھ نہیں رہ جاتا۔ گوانتانا موبے، دنیا بھر میں ان لوگوں کیلئے ایک نمائش اور مثال بن گیا ہے جو اقوام عالم کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مغرب منافق ہے، اس کے معیار دوہرے ہیں، اور اس کا دنیا کو انسانی حقوق کے سبق دینا مضحکہ خیز ہے۔۔۔ اور گوانتانا موبے کا بے قصور قرار دے دئیے جانے والے ایماد حسن جیسے قیدیوں پر تشدد کرنا اور انہیں سزائیں دینامنافقت کی انتہا ہے۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *