سعودی عرب کے91 سالہ بادشاہ شاہ عبداللہ انتقال کر گئے

دنیا کے چوتھے امیر ترین اور آٹھویں طاقت ور شخص 2005ء میں تخت نشین ہوئے تھے۔King Abdullah Barack Obama
سعودی عرب کے بادشاہ، شاہ عبداللہ اکیانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ سعودی ریاست کا ظہور اگرچہ 1750ء میں عرب کے وسط سے ہوا تھا۔ مگر سعودی عرب کی جدید مملکت کی بنیاد 1932ء میں پڑی تھی۔ سعودی عرب کا بنیادی ادارہ آلِ سعود کی بادشاہت ہے۔ جسے عبدالعزیز ابنِ سعود نے قائم کیا تھا۔ جدید ریاست کے پہلے بانی کے طور پر وہ 22؍ستمبر 1932ء سے 9؍نومبر 1953ء تک بطور شاہ حکمران رہے۔اُن کے بعداُن کے بیٹے سعود بن عبدالعزیز 9؍نومبر 1953ء سے 2؍ نومبر 1964ء کو اپنی معزولی تک حکمران رہے۔ وہ ودحہ بنتِ محمد کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے بعد فیصل بن عبدالعزیز سریر آرائے سلطنت ہوئے۔ اُن کا عرصہ حکومت 2؍ نومبر 1964ء سے 25؍ مارچ1975ء تک ہے، جب اُنہیں شہید کیا گیا۔ وہ طرفہ بنت عبداللہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ شاہ فیصل کے بعد خالد بن عبدالعزیز 25؍مارچ 1975ء سے 13؍جون 1982ء تک حکمران رہے۔ وہ الجوہرہ بنتِ مساعد کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے بعد فہد بن عبدالعزیز 13؍جون 1982ء سے یکم اگست2005ء تک حکمرانی کرتے رہے۔ وہ حصہ بنتِ احمد کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے انتقال کے بعد شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے یکم اگست2005ء سے اپنی وفات تک حکمرانی کی ۔ وہ فہدہ بنت الشریم کے بیٹے تھے۔ اس طرح وہ جدید سعودی عرب کے چھٹے بادشاہ کے طور پر حکمران رہے۔
شاہ عبداللہ18 ارب ڈالرکے ساتھ دنیا کے چوتھے امیر ترین حکمران اور دنیا کے آٹھویں طاقت ور ترین فرد کے طور پر مانے جاتے تھے۔ اُنہوں نے مکہ کے میئر کے طور پر 1961ء میں سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ایک برس بعد ہی اُنہیں سعودی نیشنل گارڈز کا کمانڈر مقرر کر دیا گیا تھا۔ وہ ڈپٹی وزیر دفاع کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اُنہیں شاہ فہد کی حلف برداری کے وقت ہی ولی عہد مقرر کر دیا گیا تھا۔ شاہ عبداللہ کو برطانیہ اور امریکہ سے سرگرم تعلقات قائم کرنے اور اُنہیں مضبوط بنانے کے باعث نمایاں مقام دیا جاتا تھا۔ اُن کے دور میں ہی خواتین کو ووٹ ڈالنے اور اولمپکس کھیلوں میں حصہ لینے کی اجازت ملی۔ شاہ عبداللہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حامی تھے۔ اُنہوں نے مراکش اور ریاض میں دو عظیم الشان لائبریریاں قائم کروائیں۔ شاہ عبداللہ عرب دنیا میں سماجی اور معاشی اصلاحات کی علامت کے طور پر دیکھے گئے۔ اُنہوں نے اپنے دور میں 110؍ ارب ڈالر کے سماجی منصوبے شروع کئے۔
شاہ عبداللہ عرب بہار (عرب اسپرنگ) کے شدید مخالفین میں سے تھے اور اسے خطے میں ایران کا اثرورسوخ بڑھانے کے کھیل کاحصہ سمجھتے تھے۔ وہ اُن عرب رہنماؤں میں شامل تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ عراق پر امریکی حملے نے خطے میں بیروت سے بغداد تک ایران کا عمل دخل غیر متوازن طور پر بڑھا دیا ہے۔ اُن پر یہ الزام تھا کہ وہ امریکی حکام کو ایران پر حملے کی راہ دکھاتے رہے۔ مگر وہ اُس میں کامیاب نہیں رہے۔
واضح رہے کہ شاہ عبداللہ پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھے۔ اور گزشتہ کئی دنوں سے اُنہیں مصنوعی تنفس سے زندہ رکھا جارہا تھا۔ گزشتہ سال دسمبر میں شاہ عبداللہ کی طبیعت خراب ہونے کے باعث اُنہیں اسپتال میں داخل کر ایا گیا تھا۔ وہ نمونیا کے مرض میں بھی مبتلا رہے۔ کمر میں تکلیف کے باعث اُن کے دو آپریشن بھی ہوئے۔وہ 2010ء میں تقریباً تین ماہ تک امریکا میں بھی زیرِ علاج رہے۔
شاہ عبداللہ یکم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے اور اکیانوے برس گزار کر 22جنوری 2015ء کو انتقال کر گئے۔ شاہ عبداللہ کے نو بیٹے ہیں ۔ اُن کی ایک بیٹی عدیلہ واحد شاہی خاتون ہیں جنہیں عوامی تقریبات میں جانے کی اجازت مل سکی۔ عدیلہ کو خواتین کے حقوق کی علمبردار کے طور پر سعودی عرب میں پہچانا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *