18ویں ترمیم… اب مسئلہ ’’چوتھی بار‘‘ کا ہو گا

کورونا کرائسس پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس (اور ان میں حکومت اور اپوزیشن کے رویّے) اور سمارٹ لاک ڈائون سے ہوتی ہوئی، گفتگو 18ویں ترمیم پر آ گئی تھی۔ میزبان کا استفسار تھا کہ اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں اس بدترین بحران اور سخت ترین چیلنج پر مرکوز کرنے اور قومی اتفاق رائے کا اہتمام کرنے کے بجائے کیا 18ویں ترمیم جیسے حساس اور نازک مسائل اٹھانا ضروری ہے؟ ہوابازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خاں کی سادگی دیدنی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود حیران ہیں کہ ایسے حساس مسائل اٹھانے کا یہ کونسا موقع اور محل ہے؟ جبکہ اس مسئلے پر پی ٹی آئی کی کور کمیٹی میں بات ہوئی، نہ ہی پارلیمانی پارٹی یا کابینہ میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا، پھر میڈیا میں یہ بحث کیوں شروع ہو گئی؟ یہاں میزبان مختلف ٹاک شوز میں ایک سے زائد وزرا اور سرکاری ترجمانوں کی گفتگو اور ان کے ٹویٹس کا حوالہ دے سکتے تھے، لیکن اختصار کے پیشِ نظر صرف اسد عمر کا نام لیا (جن کا ستارہ ایک بار پھر چمک دمک رہا ہے اور وہ عملاً ڈپٹی پرائم منسٹر لگ رہے ہیں) غلام سرور خاں نے پینترا بدلا۔ اب ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر ضرور غور ہونا چاہئے کہ 18ویں ترمیم سے ''ریاست‘‘ اور ''وفاق‘‘ مضبوط ہوا یا کمزور؟ یہ وہ بات ہے جو 18ویں ترمیم کے ناقدین کی طرف سے عموماً کہی جاتی ہے لیکن وزیر موصوف نے یہاں ایک اور دلچسپ بات بھی کہی (بلکہ یوں لگتا تھا جیسے ان کا اصل زور اسی پر ہو) یہ کہ 18ویں ترمیم میں تیسری بار وزیر اعظم بننے پر پابندی ختم کر دی گئی۔ اگر امریکہ اور برطانیہ میں تیسری بار پر پابندی ہے، تو پاکستان میں کیوں نہ ہو؟ یہاں موصوف برطانیہ کو بلاوجہ گھسیٹ لائے۔ برطانیہ میں، جس کی پارلیمنٹ ''مدر آف آل پارلیمنٹس‘‘ کہلاتی ہے، ایسی کوئی پابندی نہیں۔ برطانیہ کا آئین تحریری نہیں، لیکن وہاں روایات اتنی مستحکم ہیں کہ انہوں نے ''غیرتحریری‘‘ آئین کو بھی ''تحریری‘‘ سے زیادہ مضبوط و مستحکم بنا دیا ہے۔
ہمیں اپنی کم علمی اور کج فہمی کا احساس رہتا ہے۔ وزیر موصوف تیسری بار پر پابندی کے لیے برطانیہ کا حوالہ لائے تو ہم نے احتیاطاً پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک سے رابطہ کیا۔ موصوف نے جوڈیشل ایکٹوازم میں ڈاکٹریٹ لندن کی ایک یونیورسٹی سے کی تھی۔ انہیں بھی وزیر صاحب کی اس بات پر حیرت تھی۔
امریکہ میں ''تیسری بار‘‘ پر پابندی ہے لیکن یہ پابندی ''مسلسل‘‘ تیسری بار پر ہے۔ دو بار کے بعد، وقفے کے ساتھ، تیسری بار پر کوئی پابندی نہیں۔ مثلاً اوباما 2016 میں اپنی دو باریاں مکمل کر چکے تھے، اس لیے مسلسل تیسری بار امیدوار نہیں ہو سکتے تھے۔ اب جبکہ درمیان میں ایک ٹرم کا وقفہ آ چکا، اوباما صدارتی امیدوار ہو سکتے ہیں (اگرچہ ایسی کوئی مثال موجود نہیں، اور نہ اوباما 2020 میں صدارتی امیدوار بننے جا رہے ہیں)
امریکہ میں بھی تیسری بار پابندی جنگ عظیم دوم کے بعد لگی، جب جنگ عظیم (دوم) کے دوران روزویلٹ چوتھی بار صدر بن گئے۔ اس سے پہلے تیسری بار پر پابندی کی محض روایت تھی جو چلی آ رہی تھی۔ روزویلٹ کے بعد اس کے لیے امریکی آئین میں باقاعدہ ترمیم کی گئی‘ اور امریکہ میں آئینی ترمیم کوئی آسان کام نہیں، اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی دوتہائی اکثریت کے علاوہ، امریکی ریاستوں میں سے تین چوتھائی (75 فیصد) ریاستوں کی منظوری بھی ضروری ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ میں ریاستی اسمبلیاں بھی دو ایوانی ہوتی ہیں۔ ہمیں تیسری بار پر پابندی کے حوالے سے برطانیہ کی مثال پر زیادہ حیرت اس لیے بھی نہیں ہوئی کہ وزیر موصوف بھولپن میں عموماً ایسی باتیں کر جاتے ہیں، مثلاً گزشتہ سال، اِن کے پاس گیس اور پٹرولیم کی وزارت تھی۔ سردیوں میں گیس کا بحران آیا، تو فرمایا: عوام گرم پانی کے لیے گیزر کی عیاشی ختم کر دیں‘ آخر ہم لوگ بھی تو گیس آنے سے پہلے چولہے پر پانی گرم کرکے نہا لیتے تھے۔
غلام سرور خاں نے 18ویں ترمیم میں تیسری بار پر پابندی کے خاتمے والی شق کو "Person Specific" قرار دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں Person Specific قانون کو اچھا قانون قرار نہیں دیا جاتا۔ تیسری بار والی پابندی، خان صاحب کے سابق باس جنرل پرویز مشرف کے دور کی 17ویں ترمیم میں عائد کی گئی تھی۔ اس سے پہلے 1956 کے آئین میں، نہ ہی 1973 کے آئین میں ایسی کوئی پابندی تھی۔ ایوب خاں کے 1962 کے صدارتی آئین میں بھی تیسری بار پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ 1999 تک نواز شریف اور بے نظیر بھٹو، دو دو بار پرائم منسٹر بن چکے تھے۔ اب تیسری بار والی پابندی، ظاہر ہے، ان کا راستہ روکنے کے لیے تھی۔ یہ دونوں اگرچہ بیرونِ ملک تھے اور صدر کو یہ دعویٰ کرنے میں کوئی عار نہ تھی کہ ''میری موجودگی میں یہ دونوں واپس نہیں آ سکتے‘‘۔ اور ساتھ یہ بھی فرماتے کہ وہ پاکستان میں ہوں گے، تو میں نہیں ہوں گا۔ جنرل صاحب کی یہ ''الہامی‘‘ پیش گوئی ایک اور انداز میں پوری ہو گئی۔ بے نظیر صاحبہ، ان کی صدارت کے دوران ہی واپس آئیں (یہ الگ بات کہ اس کی قیمت اپنی جان کے زیاں کی صورت میں ادا کرنا پڑی) نواز شریف بھی مشرف صاحب کی صدارت ہی کے دنوں میں واپس آئے۔ پھر تیسری بار وزیراعظم بھی بن گئے‘ اور مشرف کی یہ پیش گوئی بھی پوری ہو گئی کہ وہ ہوں گے تو میں نہیں ہوں گا۔ میاں صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران، وہ علاج کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے۔ اسی دور میں ان کے خلاف آرٹیکل 6 کا مقدمہ بھی قائم ہوا‘ اور خصوصی عدالت نے وزیراعظم عمران خان کے دور میں گزشتہ سال انہیں سنگین غداری کے الزام میں سزائے موت بھی سنا دی‘ جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل زیر التوا ہے۔
وزیر موصوف کا یہ استدلال بجا کہ 18ویں ترمیم میں تیسری بار والی پابندی کا خاتمہ Person Specific تھا، لیکن 17ویں ترمیم میں یہ پابندی بھی تو Person Specific تھی۔
رانا ثنااللہ، راجپوت ہونے کے باوجود ہیں تو فیصل آبادی۔ اور لاہور اور گوجرانوالہ کے طرح فیصل آباد والوں کی حس لطافت بھی مثالی ہے‘ اور ان کی یہ روایت تقسیم سے پہلے سے چلی آ رہی ہے، جب فیصل آباد لائل پور ہوتا تھا۔ رانا ثنااللہ کی رگِ ظرافت پھڑکی۔ غلام سرور خاں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا، جناب! تیسری باری تو وہ لے چکے‘ اب آپ ان کی چوتھی باری کی فکر کریں۔ میزبان نے مصرع طرح اٹھایا، لیکن وہ تو نااہل ہو چکے۔ رانا نے گرہ لگائی، سیاست میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ نااہل کو اہل ہوتے کتنی دیر لگتی ہے؟ لیکن وہ تو بیرون ملک ہیں؟ … واپس بھی آ جائیں گے، رانا کا ترنت جواب تھا۔ ہمیں سہیل وڑائچ سے شہباز شریف کی حالیہ ملاقات یاد آئی، جس میں شہباز شریف بتا رہے تھے کہ ان کی اس بات پر کہ آپ حمزہ اور مریم کے آئندہ سیاسی رول کا فیصلہ بھی کر دیں پورا خاندان اس پر عمل کرے گا، میاں صاحب کا جواب تھا، یہ فیصلہ وہ پاکستان آکر کریں گے۔
حیرت ہے، قومی سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت پیدا کرنے والے اس واقعے کی جناب وزیراعظم کو اتنے دن گزر جانے کے باوجود بھی اطلاع نہ ہوئی‘ اور یہ بات چودھری طارق بشیر چیمہ کو ان سے ملاقات میں یاد دلانا پڑی۔ طارق بشیر چیمہ کے بقول، وزیر اعظم صاحب سے یہ ملاقات خاصی جذباتی تھی، جس میں انہوں نے چودھری برادران کے خلاف انیس بیس سال پرانی فائلیں کھولنے کے نیب کے اقدام پر شدید احتجاج کیا اور پوچھا کہ کیا جنابِ وزیراعظم یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ آخر یہ بیس سال پرانے کھاتے کھولنے اور پرانے حساب چکانے کے لیے کس نے کہا؟ چیمہ صاحب کے بقول، وزیراعظم صاحب نے کہا کہ وہ 24 گھنٹے کے اندر تمام حقائق جان کر ان سے رابطہ کریں گے۔ وزیراعظم صاحب اپنے کولیشن پارٹنرز کے اطمینان کا کس حد تک اہتمام کر پائیں گے؟ یا وہ اس کی ضرورت بھی محسوس کریں گے یا نہیں؟ لیکن فی الحال تو ان کا رویہ اطمینان بخش ہے۔ ورنہ وہ یہ طے شدہ مؤقف بھی دہرا سکتے تھے کہ نیب ایک آزاد و خودمختار ادارہ ہے، حکومت کا اس سے کیا لینا دینا؟
ادھر رانا ثناء اللہ کا دعویٰ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا پروگرام تیار تھا۔ وہ تو قسمت نے یاوری کی اور چودھری صاحبان نے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: