جمہوریت سے بغاوت کا پہلا سبق

(نعیم احمد بلوچ)Sheikh-Imran-ul-Haque

 

قوموں کی تاریخ میں ساٹھ باسٹھ برس کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتے ۔ امریکا 1776ء کو آزاد ہوا، لیکن 1849 ء میں خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ ابراہم لنکن نے جان کی قربانی دے کر 1865ء میں یہ جنگ جیت لی ،لیکن اس عمل میں 89 برس صرف ہوئے۔ امریکا بھی پاکستان کی طرح وقت کی سپر پاورز کی کالونی رہا اور وہاں پر مختلف قومیتوں اور رنگ و نسل کے لوگوں کو امریکی بننے میں دو صدیوں سے زیادہ کا وقت لگا، لیکن ا مریکیوں نے جمہوریت کا دامن نہیں چھوڑا اور درست سمت سفر جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا وطن بحرانوں کی بھٹی میں کندن بن کر نکلا ۔ وطن ِعزیز پاکستان کو آزادہوئے سڑسٹھ برس ہو چکے ہیں ۔ ان برسوں میں ہم نے بھی خاصے اتار چڑھائو دیکھے۔ ہم پرتین گورنر جنرلز،گیارہ صدور اورمتعددمستقل نوعیت کے وزراء اعظم نے حکومت کی ۔ ایک احساس یہ ہے کہ ہم بتدریج زوال کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں، لیکن تاریخ کا مطالعہ اور حال کے ساتھ اس کا موازنہ ہمیں ایک دوسری تصویر دکھاتاہے۔ بظاہر یہ ایک عجیب دعویٰ ہے ، لیکن تاریخ کا گہرا مطالعہ اسی کی تصدیق کرتا ہے۔ پاکستان بار بار جمہوریت کی پٹری سے اُترا، لیکن بتدیج عوام جمہوریت کی طرف مائل ہوئے ۔ لگتا یہی ہے کہ اس وقت جمہوریت پر پاکستانیوں کا اعتماد خاصا پختہ ہو چکا ہے۔ حالیہ انتخابات میں نجومیوں سمیت تمام بڑے بڑے ’’دانش ور ‘‘ یہ کہہ رہے تھے کہ الیکشن اول تو ہوں گے ہی نہیں، اگر ہوئے تو خون آشام ہوں گے، لیکن نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ جمہوریت سے بغاوت کا پہلا سبق اس قوم کو سکندر مرزا سے ملا تھا۔ سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر پاکستان اور آخری گورنر جنرل تھے۔ وہ میر جعفر کے پڑ پوتے تھے ، وہی میر جعفر جن کے بارے میں مشہور ہے کہ سراج الدولہ کو انگریز سالار لارڈ کلائیو نے ان کی غداری ہی بدولت شکست دی تھی۔ اسی وجہ سے علامہ اقبال نے اپنے مشہور شعر میں انہیں میر صادق کے ساتھ ’’ ننگ وطن،ننگ ملت اور ننگ دین‘‘ قرار دیا تھا، لیکن جہاں تک اسکندر مرزا کا تعلق ہے تو وہ برصغیر کے پہلے مسلمان فوجی گریجویٹ تھے جنھوں نے فوج میں( 1920ء)کمیشن حاصل کیا۔ برطانوی فوج میں میجر جنرل رہے (صرف 6 ماہ) ۔ اس کے بعد بیوروکریسی کا حصہ بنے۔پاکستان کے قیام کے وقت میں پورے ہندستان کے دفاعی سیکرٹری رہے۔اگر اس سلسلے میں کوئی نا انصافی ہوئی ہے ( اور یقیناً ہوئی ہے ) تو اس کے ذمہ داروہ ہیں کیونکہ فوجوں کی تقسیم انھی کے حکم اور نگرانی میں ہوئی۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان کے گورنر بنے۔انھیں غلام محمد گورنر جنرل پاکستان نے مقرر کیا۔1955ء میں قائم مقام گورنر جنرل بنے اور1956ء میں پاکستان کے پہلے صدر۔ انھیں پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے صدر منتخب کیا تھا۔انھوں نے چودھری محمد علی کو وزیر اعظم مقرر کیا جو کہ نہ اسمبلی کے رکن تھے نہ سیاست دان بلکہ بیوروکریٹ تھے۔ ان کے بھروسے کے آدمی تھے جیسے کہ سید یوسف رضا گیلانی موجودہ صدر زرداری کے بھروسے کے آدمی تھے۔انھوں نے اس شک کی بنیادپر کہ اگلی مدت میں انھیں قومی اسمبلی صدر منتخب نہیں کرے گی ، چاروزرائے اعظم بدلے،یعنی چودھری محمد علی، حسین شہید سہروردی،آئی آئی چندریگر اور ملک فیروز خاں نون ۔اس پر بھارتی وزیر اعظم نے یہ طنز کی میں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستانی صدر وزیر اعظم بدلتا ہے۔ یہی وجہ ہے سکندر مرزا کادور انتہائی غیر مستحکم رہا۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ جاری رہی۔ کوئی قابل ذکر ترقیاتی کام نہ ہوا۔ انھوں نے آئین بنانے کا جو واحد معقول کام کرایا تھا اسے خود ہی توڑ ڈالا۔ دراصل انھوں نے جب دیکھا کہ قومی اسمبلی کسی طور پر انھیں صدر منتخب نہیں کرے گی ،تو انھوں نے پہلے پاکستانی آرمی چیف اور وزیر دفاع جنرل ایوب کو مارشل لاء لگانے کا حکم دیا۔یوں 7 اکتوبر1958ء کو مارشل لاء لگا دیا گیا اور سکندر مرزا پاکستان کے پہلے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے،لیکن27 اکتوبر کو ایوب خاں نے سکندر مرزا کو اپنے ذاتی پستول سے ہینڈزاپ کرکے گرفتار کر لیا اور اسے ملک بدر کرکے خود مارشل لاء ایڈمنسٹر یٹربن گیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ سے سکندر مرزا کا عمل دخل ختم ہو گیا۔ سکندر مرزا نے جلاوطنی ہی میں 12نومبر1969ء کو وفات پائی۔ انھیں پاکستان میں دفنانے کی اجازت نہ ملی، تب ایرانی شہنشاہ رضا شاہ پہلوی نے اہتمام کیا اور وہ ایران میں اعزاز کے ساتھ دفن ہوئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *