غزل گائیکی کیا سناتی ہے

Intizarغزل کی صنف پر دنیائے ادب میں تو بہت بحث مباحثے ہوئے۔1857ء کے بعد تو اس صنف کے خلاف ایک اچھا خاصا محاذ قائم ہو گیا۔ مولانا حالیؔ اور آزادؔ کی نیچرل شاعری کی تحریک سے لے کر ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کی تحریک تک اجانئے کیا کیا اس کے خلاف زہر اگلا گیا۔ یہانتک اعلان ہوا کہ غزل ایک نیم وحشی صنف سخن ہے۔

مگر غزل مشاعروں اور ادبی محفلوں سے ہٹ کر ایک اور دنیا میں بھی جادو جگا رہی تھی۔ اس پر کسی نقاد نے توجہ ہی نہیں کی۔ یہ موسیقی کی دنیا تھی۔ خیر ادبی نقادوں کا یہ میدان بھی نہیں تھا۔ لیجیے اب ایک ایسی کتاب سامنے آئی ہے۔ یہ انجم شیرازی کی کتاب ’غزل گائیکی‘ ہے جسے سانجھ پبلی کیشنز نے شایع کیا ہے اور دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ یہ اس موضوع پر پہلی کتاب ہے۔

پچھلے زمانوں میں غزل گائیکی کی کیا صورت تھی یہ تحقیق طلب ہے۔ مصنف نے تھوڑی تاک جھانک اس پرانی تاریخ میں بھی کی ہے۔ مگر اس کی وہ نئی تاریخ جو ارتقائی مدارج طے کرتی ہوئی ہمارے زمانے تک آئی ہے اواخر انیسویں صدی میں شروع ہوتی ہے۔ مگر ایک تاریخ تو طے شدہ ہے وہ اس طرح کہ اس جائزے کے مطابق 1902ء میں کلکتہ میں گرا موفون ریکارڈ بننے شروع ہوئے۔ بس اس کے ساتھ گانے والوں کی آوازیں گراموفون ریکارڈوں کے ذریعہ اس برصغیر کی فضا میں گونجنے لگیں۔ موسیقی کی باقی اصناف کو چھوڑئیے‘ غزل گائیکی کی طرف آئیے۔ گراموفون ریکارڈ کے ذریعہ آواز گونجی؎

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

آخر میں گانے والی اعلان کرتی ہے ’’مائی نیم از گوہر جان‘‘ یہ تھی غزل کی پہلی ریکارڈنگ۔ تاریخ تھی 14 نومبر 1902ء جہاں ریکارڈنگ ہوئی وہ تھا شہر کلکتہ۔ اور غزل تھی غالبؔ کی اور غالبؔ نے تو اپنے وقت ہی میں کلکتہ سے اپنی شیفتگی کا اعلان کر دیا تھا؎

کلکتہ کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں

اِک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

اور بیسویں صدی میں آ کر یہ تیر کلکتہ میں سر ہوتے ہی چلے گئے اور اہل دل کے دل و دماغ میں اترتے چلے گئے۔ امام باندی دہلی والی‘ جانکی بائی الہ آباد والی‘ ملکہ جان آگرہ والی‘ الہ باندی جے پور والی انگریزی اعلان جلدی اردو میں منتقل ہو گیا۔ میں ہوں اللہ باندی جے پور والی اور میں ہوں امام باندی دلی والی۔

کچھ مردانہ آوازوں کے نام بھی سن لیجیے۔ برکت علی خاں، کے ایل سہگل‘ ماسٹر مدن۔ اور تھوڑے زمانے کے بعد جو آنے والیاں اور آنے والے ہیں ان میں سے چند ایک کے نام سن لیجیے۔ کملا جھریا‘ مختار بیگم‘ ملکہ پُکھراج، اختری بائی فیض آبادی۔

اس کے بعد جو دور آیا اس دور میں کون کونسی آوازیں گونجیں۔ میں ہوں زہرہ بائی  انبالے والی۔ اور میں ہوں جہاں ارا کجن اور میں ہوں امیر بائی کرناٹکی۔ مگر اب تو فلموں کا زمانہ زور پکڑ چکا تھا۔ وہ آوازیں بھی سن لیجیے کانن دیوی  ؎

کیا اجڑا چمن خوشی کا‘ کیسا نصیبہ پھوٹ گیا

خورشید بانو؎

محبت میں سارا جہاں جل رہا ہے

پنکج ملک ؎

یوں درد بھرے دل کی آواز سنائیں گے

بے درد کے دل کو بھی ہم درد بنائیں گے

یہ زمانہ کھنچتے کھنچتے 49ء تک آ جاتا ہے جب فلم ’محل‘ میں اس آواز نے جادو جگایا تھا آواز تھی راج کماری کی  ؎

گھبرا کے جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو

اس جینے میں سو دکھ ہیں‘ مرجائیں تو اچھا ہو

لیجیے اب تو وہ زمانہ آ گیا جو ہماری یاد میں بہت تازہ ہے۔ نورجہاں کی آواز کیا خوب گونجی  ؎

رم جھم رم جھم پڑے پھوار

تیرا میرا نِت کا پیار

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا‘

تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

لیجیے اب غالبؔ کو ثریا کی آواز میں سنئے؎

نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

اور غالبؔ کی ایک غزل طلعت محمود کی سنگت میں   ؎

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اور اب۔ زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا۔ لتا منگیشکر۔ مادری زباں مراٹھی۔ اردو کے سبق نجم شیرازی کے بیان کے مطابق مجروح سلطان پوری سے لیے۔ اور صحیح کہا نجم شیرازی نے کہ ’’اردو غزلیں اتنی صفائی سے گائی ہیں کہ اہل زبان تک انھیں داد دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘‘۔ اور کس کس کی غزل۔ میرؔ کی‘ غالبؔ کی؎

جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی

حقِ بندگی ہم ادا کر چلے

یہ تھے میرؔ۔ اور یہ ہیں غالبؔ؎

درد منت کش دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا‘ برا نہ ہوا

اور یہ کس کی غزل ہے ؎

نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتے

اگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتے

اور ان کی بہن آشا بھونسلے۔ اس بی بی نے اردو کس سے سیکھی۔ دیکھئے کیسی کیسی غزل گائی ہے؎

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں

یہ تو تھے شہر یار۔ اور یہ ہے ناصر کاظمی؎

پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے

پھر پتوں کی پازیب بجی تم یاد آئے

ارے بھائی کہاں تک نام گنائیں۔ چلیے نسیم بیگم کی آواز میں سن لیجیے منیرؔ نیازی کو اور صوفی تبسمؔ کو؎

اُس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

اشک رواں کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو

…………

سو بار چمن مہکا‘ سو بار بہار آئی

دنیا کی وہی رونق‘ دل کی وہی تنہائی

…………

اس لمبے دور کے بعد جو دور آتا ہے اس میں کون نمایاں ہوئے مہدی حسن‘ فریدہ خانم‘ غلام علی اور اب تو ٹی وی بھی آ گیا تھا۔ یعنی ریڈیو اور فلم سے گزر کر یہ فنکار ٹی وی کے پردے پر بھی خوب چمکے۔ اور فیضؔ صاحب سے فرمائش ہو رہی ہے کہ ذرا وہ مہدی حسن والی غزل سنا دیجیے؎

گلوں میں رنگ بھرے باد نور بہار چلے

چلے بھی آئو کہ گلشن کا کاروبار چلے

اور ہاں اقبال بانو۔ وہ بھلا بھولنے والی شے ہیں اور پھر چھایا گنگولی؎

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

اور جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ۔ انجم شیرازی کہتے ہیں کہ ’’جدید غزل گائیکی کے قافلہ کے روح رواں تو جگجیت سنگھ ہیں‘‘۔

لیجیے ہم تو ان آوازوں کی رو میں بہہ گئے۔ لیکن انجم شیرازی نے بھی تو یہی کیا ہے۔ البتہ انھوں نے ان گائیکوں کے مختصر حالات زندگی بھی رقم کیے ہیں۔ کچھ ان کے فن پر بھی روشنی ڈالی ہے اور آخر میں جو نتیجہ نکالا ہے وہ یہ ہے کہ ’’غزل گائیکی دراصل ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی آئینہ دار ہے… اسے اعلیٰ طبقہ نے جنم دیا‘ شرفا نے پروان چڑھایا اور درمیانے طبقہ نے شباب بخشا‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *