صوفی موسیقی کی باریکیاں نصرت فتح علی خان سے سیکھیں ، اے آر رحمان

A Rبھارت کے آسکر اور گریمی انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے صوفی موسیقی کی باریکیاں پاکستانی قوال نصرت فتح علی خان سے سیکھیں اور وہ پاکستان جا کر کانسرٹ کرنے کے خواہشمند ہیں۔

’خواجہ میرے خواجہ‘ ہو یا پھر ’عرضياں ساری‘ اے آر رحمان کی موسیقی پر صوفی موسیقی کی ایک بڑی چھاپ نظر آتی ہے اور بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس عالمی شہرت یافتہ موسیقار کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلی بار اگر کوئی صوفی موسیقی سنی تو وہ نصرت فتح علی خان کی ہی تھی۔
اے آر رحمان نے کہا کہ ’نصرت صاحب کی صوفی موسیقی جب میں نے سنی تو میرا نظریہ ہی بدل گیا۔ مجھے ان سے صوفی موسیقی کے ساتھ ساتھ قوالی سیکھنے کا موقع بھی ملا۔‘

اے آر رحمان کے مطابق صوفی موسیقی کی وجہ سے ان کی ذاتی زندگی میں بھی بہت تبدیلی آئی ہے اور اس نے صرف انہی کی نہیں بلکہ سننے والوں کی سوچ کو بھی تبدیل کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ لوگ ’خواجہ میرے خواجہ‘ سے اس قدر متاثر ہوں گے۔ اس نغمے نے ہر انسان کو چھو لیا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب کا ہو۔ موسیقی میں یہی تو خاص بات ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو آپس میں جوڑتی ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں رحمان کا کہنا تھا کہ ’1998 میں مجھے پاکستان جانے کا موقع ملا تھا اور میں نے وہاں نصرت صاحب کے ساتھ کچھ گانے ریکارڈ کیے۔ اس کے بعد مجھے کبھی دوبارہ پاکستان جانے کا موقع نہیں ملا اور اب موقع ملے تو ایک بار پھر پاکستان جا کر فن کا مظاہرہ کرنا چاہوں گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *