اسلام کے نام پر

Ayaz Amirکیا اس سے زیادہ کوئی ستم ظریفی ہو سکتی ہے کہ جو ملک اسلام کے نام پر قائم کیا گیا(دو قومی نظریہ اور مسلم جداگانہ قومیت کا تصور) اُس میں بدترین نفرت کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور لوگ مذہب کے نام پر قتل ہو رہے ہوں؟آج اس ملک میں صورت حال یہ ہے کہ فرقہ واریت عام علمی اور فقہی اختلافات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ ہر گزرنے والے دن کے ساتھ اس کی وحشت اور درندگی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان بھی اسی جنونی فرقہ واریت کا عملی اظہار ہیں۔
طالبان مسلمانوں کے تمام فرقوں کے نمائندے نہیں بلکہ وہ اسلام کی صرف ایک شاخ کے پیروکار ہیں، اس لئے وہ اس کی من پسند تشریح کو ہی قابل ِ قبول سمجھتے ہیں۔ ان کی عقیدت مذہب کے مقامی رجحانات سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ان کی قدامت پسندانہ سوچ کے سوتے سمندر پار صحرائے عرب سے پھوٹتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں عقیدہ وہی درست ہے جسے وہ درست سمجھتے ہیں اور اس پر یقین نہ رکھنے والے دائرہ ِ اسلام سے خارج ہی نہیں، واجب القتل بھی ہیں اور یہ محض خالی خطابت ہی نہیں ہے، وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ جہاں ان کا پرچم لہراتا ہے، وہاں کسی اور مسلک یا فرقے، یا معتدل مسلمانوں یا اولیا اﷲ، جو کئی صدیاں پہلے برِصغیر میں آئے تھے، کے خانقاہی نظام کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔ ان کے علاقوں میں عقل یا دلیل کی بھی سمائی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام انتہاپسند فرقے طالبان کو اپنا فطری اتحادی سمجھتے ہیں اور اُنہی سے ’’فکری اور روحانی رہنمائی‘‘ لیتے ہیں۔
بلوچ علیحدگی پسند بھی ریاست کے خلاف لڑرہے ہیں۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے ہم لوگ اُن سے کتنا ہی اختلاف کیوں نہ کریں، ان کا مطالبہ بہرحال سیاسی نوعیت کا ہے اور اس پر بات چیت کا راستہ نکل سکتا ہے(تاہم گمشدہ افراد کی لاشیں پھینکنے سے یہ مسئلۂ حل نہیں ہو گا)۔ دوسری طرف طالبان جو اپنا عقیدہ آپ پر مسلط کرنے پر تلے ہوئے ہیں، سے کیسے بات کی جائے؟اگر اُن کو آپ پر اختیار مل جائے تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ آپ کیا پہنیں، بال کتنے لمبے رکھیں، کس طرح بیٹھیں یا چلیں وغیرہ.... اور وہ آپ کو بتائیں گے کہ خواتین کا اصل مقام کیا ہے۔ کیا ان کے ساتھ عام پاکستانیوں کا نباہ ممکن ہے؟وہ رہنما جو طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے بے چین ہورہے ہیں، نے فی الحال ان سوالوں کا جواب نہیں دیا ہے۔ آج کے پاکستان میں فرقہ واریت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی پر کوئی حیرت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ اسے زندگی کا معمول سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس مقام تک کیسے پہنچے؟ اگرچہ اس کی بنیادی ذمہ داری جنرل ضیاء پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن اب ماضی کی راکھ اُڑانا بے سود ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی مناسب نہیں ہے کہ یہ صرف ایرانی انقلاب اور ایک برادر اسلامی ملک کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے قائم ہونے والے مدرسوں کا شاخسانہ ہے۔ یہ سب اپنی جگہ پر حقیقتیں ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کی سرزمین مذہب سے متاثر ہونے کے لئے اتنی زرخیز نہ ہوتی تو ان عوامل کا اتنا واضح اثر نہ ہوتا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دھرتی کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ہم جس کھائی میں گرچکے ہیں، اس تک ہمیں کس چیز نے پہنچایا؟ کس طرز ِ تعمیر نے ہماری بربادی کی بنیاد بھی رکھ دی؟اگرسیاسی حوالے سے دیکھیں تو پاکستان کا مطالبہ غلط نہ تھا۔ برصغیر کے مسلمان یا کم از کم وہ جو مسلم لیگ کے پرچم تلے جمع ہو گئے، اپنے لئے ایک الگ ریاست چاہتے تھے۔ یہ کوئی غیر فطری مطالبہ نہ تھا۔ امریکی کالونیوں نے بھی برطانوی راج سے آزادی کا مطالبہ کیا تھا۔ جب وقت آیا تو سوویت یونین میں شامل ریاستیں اس سے الگ ہو گئیں۔ سلواکیہ نے چیک ری پبلک سے علیحدگی اختیار کرلی۔ آج بھی اسکاٹش نیشنل پارٹی اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے جدوجہد کررہی ہے(اور مجھے امیدہے وہ آزادی حاصل کر لیں گے) تاہم پاکستان کے حصول کے لئے جو مطالبہ سیاسی طور پر درست تھا، وہ مذہب کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے غیر فطری بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اور یہ علاقائی حد بندیوں کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ اس کا مسلم امہ کا تصور مسلمانوں کو جغرافیائی تفاوت سے نکال کر ایک صف میں کھڑا کردیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس پر ایک وطن کے نظریئے کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی تھی۔ وطن کی بنیاد پر قوم کا تصور جدید نظریہ ہے لیکن اسلامی نظریہ امت ِ مسلمہ کا تصور ہی ہے، اس لئے یہ نظریۂ وطنیت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کا مطالبہ سیاسی نوعیت کا ہی تھا اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے مذہب کو استعمال کیا گیا۔ برصغیر کے ان معروضی حالات میں یہ بات قابل ِ فہم ہے۔ قیام ِ پاکستان سے تین دن پہلے گیارہ اگست کو مسٹر جناح نے دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے سامعین کو قائل کرنے کی کوشش کی اب وہ ایک لکیر عبور کر چکے ہیں... یعنی ایک الگ مملکت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوچکا ہے، اس لئے اب وہ ماضی کو بھول کر مستقبل کے تقاضوں پر نظر رکھیں۔ اب یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اس سے پہلے، گزشتہ دس سال سے محمد علی جناح مسلمانوں اور ہندوئوں کو الگ قومیں ثابت کررہے تھے ... ایسی قومیں جن کی عبادت اور طرز ِ زندگی ، سمیت سب کچھ مختلف تھا تاہم جب سخت جدوجہد کے بعد قیام ِ پاکستان کی منزل حاصل کر لی گئی تو اُنھوں نے یک لخت اُس کے برعکس کہنا شروع کر دیاکہ اب ماضی کی تفریق کو بھول جائیں اور ہندو اور مسلمان اس نئی ریاست میں شہری بن کر رہیں اور ان کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔
اگر مسٹر جناح کی زندگی وفا کرتی یا اُن کے جانشین ان کے تصور کو حقیقت کا روپ دے سکتے تو آج کا پاکستان مختلف ہوتا ہے تاہم ایسا کچھ نہ ہوا اور پاکستان ایک سیکولر ریاست، جس میں ہندو اور مسلمانوں نے مساوی حقوق رکھنے والے شہری بن کر رہنا تھا، بننے کے بجائے اسلامی ریاست بننے کی راہ پر چل نکلا۔ اس کے بعد دستور ساز اسمبلی نے قرارداد مقاصد منظور کرتے ہوئے اس کے سیکولر خدوخال کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ چنانچہ پاکستان ملائیت کی راہ پر چل نکلا۔ اس کا منطقی انجام یہی ہوسکتا تھا کہ جو لوگ مسلمان نہیں ہیں وہ اس ریاست میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں گے۔ میں یہ بات پھر دہراتا ہوں کہ پاکستان کا مطالبہ سیکولر نظریات کا حامل نہ تھا کیونکہ مذہب کی بنیاد پر دو قوموں کی تقسیم بذات ِ خود سیکولر نظریات کی نفی کرتی ہے لیکن قائداعظم کا گیارہ اگست کی تقریر کا پیغام سیکولر نظریات کا حامل تھا...’’آپ کو آزادی حاصل ہے کہ آپ مساجد میں جائیں یا مندروں میں...‘‘، لیکن قرارداد ِ مقاصد اس تقریر سے انحراف کرتی ہے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس سے کیا خرابی واقع ہوئی؟ اس کا جواب ہے... بہت کچھ خراب ہوگیا۔ دراصل ضیاء دور میں جس طرح اسلام کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا، اُس نے ہمیں بہتر مسلمان نہیں بنایا بلکہ ہمیں اسلام کی اصل روح سے مزید دور کر دیا۔ کیا آج آپ اس ملک، جو اسلام کے نام پر بنا تھا، میں رواداری اور انسانی محبت، جو مذہب کے بنیادی اصول ہیں، کو تلاش کرسکتا ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد، جو مستقبل کی پیش بینی کر گئے تھے، نے1946ء کو آغاشورش کاشمیری کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھاکہ پاکستان ٹوٹ جائے اور باقی ماندہ مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہوجائے گا۔ مولانا کی پیش بینی خوفناک حدتک درست تھی۔
تاہم اب ماضی پر تاسف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ہم ماضی کی بہت سی توجیہات بیان کر سکتے ہیں لیکن اس سے دنیا تبدیل نہیں ہو جائے گی۔ اب ہمارے سامنے مسئلہ ٔ یہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے جنم لینے والی خرابیوں سے کیسے نمٹاجائے؟ہم نے رجعت پسندی سے منافقت بھی سیکھی ہے ۔ جتنا زیادہ ہم اسلام کا اظہار کرتے ہیں، اتنا ہی ہم اسلامی رویوں سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ کیا ہم یہ سادہ سی بات کی تفہیم کرنے سے قاصر ہیں کہ مذہب کو ریاست کے امور سے الگ کرتے ہوئے اسے انفرادی معاملہ قرار دینے سے ہمارے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے ہم اسلام کی روح کے قریب ہوجائیں۔ یاد رہے کہ نفرت کی فضا میں سلامتی پر مبنی مذہب کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *