بانسائی بونے درخت اور عامر بن منیر

MHTمستنصر حسین تارڑ

ان دنوں بانسائی کا بہت رواج ہے۔۔۔ آپ کسی بھی نرسری میں چلے جائیے وہاں دیگر گل بوٹوں، درختوں، آرائشی پودوں کے علاوہ بانسائی بہتات میں پائے جاتے ہیں ۔۔۔اور بانسائی ہے کیا؟ ایک مختصر قامت کا مکمل درخت، ایک بونا، ایک ٹھگنا لیکن مکمل درخت۔۔۔ جس کی شاخوں کو تاروں سے باندھ کر اُنہیں ایک مخصوص جمالیاتی شکل دی جاتی ہے۔۔۔ اور ایک بانسائی کیسے تخلیق کیا جاتاہے؟ کسی بھی مناسب درخت کا ایک پودا اگا کر اُس کی بڑھوتی کو قابو کیا جاتا ہے۔ باقاعدگی سے اُس کی جڑیں کاٹی جاتی ہیں اور شاخوں کی تراش خراش کی جاتی ہے۔ یوں اُس کی شکل تو عام درخت کی مانند پرورش پاتی ہے لیکن اس کا قد بے حد مختصر رہ جاتا ہے۔ جاپان جو بانسائی کا گھر ہے وہاں زراعت سے متعلق اداروں میں بانسائی تخلیق کرنے کے مکمل کورس پڑھائے جاتے ہیں اور اس میں دو سے چار برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ بانسائی بنانا ایک پیچیدہ عمل ہے جس کے لیے تکنیکی ہنر مندی کے علاوہ بے پناہ صبر اور استقامت درکار ہوتی ہے۔۔۔ یہ مشغلہ میرے جیسے بابا ہو چکے لوگوں کے لیے نہیں ہے کہ بانسائی بنانا شروع کریں تو اس میں کم از کم چھ سات برس تو صرف ہو جاتے ہیں اور تب جا کر اس کی شکل نکلتی ہے۔ جاپان میں بانسائی میوزیم بھی ہیں جہاں کئی بونے درخت سوبرس سے زائد کی عمر کے دیکھے جا سکتے ہیں۔ بانسائی جاپان کی بہت سی ثقافتی قدروں کی مانند چین کا باشندہ ہے لیکن ان دنوں پوری دنیا میں اسے بنایا جاتا ہے۔۔۔ جاپان میں اس کی پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں زمین کی شدید کمی ہے۔۔۔ لوگوں کے پاس سونے کی جگہ کم پڑ جاتی ہے تو وہاں گل بوٹے اُگانے، درخت لگانے اور گھریلو باغیچے بنانے کے لیے گنجائش کہاں سے آئے تو اس مجبوری کے تحت ’’جاپانی گارڈن‘‘ کی تخلیق ہوئی یعنی ایک مختصر سے زمین کے ٹکڑے پر ننھی منی ندیاں اُن پر کھلونا پل، پستہ قد اور زمین پر بچھے پودے، جھاڑیاں، ایسے مخصوص پتھر جن پر ایک چٹان کا شائبہ ہو اور ان کے درمیان یہی بانسائی کے بونے شجر جن پر ایک جنگل کا گمان ہوتا ہے۔ چین، ویت نام، تھائی لینڈ وغیرہ میں ان کی مانگ پوری کرنے کی خاطر سینکڑوں ایکڑوں میں انہیں کمرشل طور پر تیار کیا جاتا ہے۔۔۔ پاکستان میں یہ ایک کثیر تعداد میں درآمد کیے جاتے ہیں، نرسریوں کے مالک ان ممالک میں جا کر ایسے بانسائی ہزاروں کی تعداد میں خرید کر خصوصی کنٹینروں میں پیک کر کے پاکستان لاتے ہیں لیکن دراصل یہ بانسائی نہیں ہوتے۔۔۔ انہیں تکنیک اور مہارت کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر دو چار برسوں میں ہی تخلیق کیا جاتا ہے۔ انہیں آپ جعلی بانسائی کہہ سکتے ہیں لیکن یہاں خریدار اتنا سمجھدار نہیں کہ اصلی اور جعلی میں تمیز کر سکے۔۔۔ ورنہ بانسائی بنانے میں تو برسوں درکار ہوتے ہیں اور ذوق جمال ہی ان کی شکل اور تراش خراش کی رہنمائی کرتا ہے۔
میں نے زندگی میں بہت سے بکھیڑے پالے، بہت سے خبط مجھ پر حاوی رہے اور اُن میں سے ایک بانسائی بھی ہے۔۔۔ ایک بار خاصی رقم برباد کر کے دبئی سے ایک چھوٹا سا بانسائی خریدا۔۔۔ اُسے گود میں رکھ کر پاکستان لایا۔۔۔ جونہی موسم گرما شروع ہوا، لاکھ احتیاط کے باوجود اس کے پتے گرنے لگے اور بالآخر مر گیا۔ ہالینڈ کے شہر ایسٹرڈیم میں ایک بانسائی دیکھا اور اُس پر فدا ہو گیا۔۔۔ میری بیگم نے بہت منع کیا کہ یہ پاکستان کے موسموں کو سہار نہیں سکے گا لیکن میرا جو از یہ تھا کہ بھلے یہ ایک دو ماہ چلے لیکن اتنا عرصہ تو میں اسے دیکھ دیکھ کر خوشی حاصل کر لوں گا۔۔۔ اتنی ساری خوشی کے لیے کچھ رقم خرچنا اور اسے پاکستان سے جانے کا تردد کرنا جائز ہے۔۔۔ اور ایسا ہی ہوا۔۔۔ مجھے کچھ پچھتاوا نہ ہوا کہ میں اس سے لطف اندوز ہوا تھا اور اس کی شکل آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے اور مجھے مسرت سے ہمکنار کرتی ہے۔۔۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ آخر میں بونسائی کے عشق میں کیوں گرفتار ہوں تو ہر عشق کی مانند اس کی شکل بہت دل کش ہوتی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ میں ایک تصوراتی شخص بھی ہوں۔ میں ایک بانسائی کو نہایت مگن ہو کر دیکھتا رہتا ہوں اور پھر میں تصور کرتا ہوں کہ میں اس کے سائے میں بیٹھ چکا ہوں اور وہ ایک عظیم اور تناور درخت ہے جو مجھ پہ سایہ فگن ہے اور میں اس کیفیت سے بے حد مسرت کشید کرتا ہوں۔۔۔ جی ہاں میں تو مانتا ہوں کہ میں ایک خبطی شخص ہوں اور مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں۔ میری بانسائی کی کولیکشن بہت محدود ہے۔ کل پانچ نمونے میرے صحن کو اپنا حسن بخشتے ہیں۔۔۔ ان میں سے دو تو ذرا معمولی سے ہیں لیکن بہت مدت پیشتر ایک پاکستانی بانسائی خبطی نے مجھے برگد کا ایک بانسائی تحفے میں دیا تھا۔ اس کا قد ایک فٹ بھی نہ ہو گا لیکن یہ تقریباً اٹھارہ برس کا ہے۔ ایک قدرے پھیلا ہوا مروا پودے کا بانسائی اور مجھے امید ہے کہ موسم بہار میں یہ مجھے چند مہک آور پھولوں سے نوازے گا۔۔۔ ایک ان سب میں سے خوش شکل کا بیس سالہ پرانا بانسائی ہے، آپ اداس ہوں تو اسے ایک نظر دیکھ لیجیے خوش ہو جائیں گے۔۔۔ اسے تادیر دیکھنے سے آپ جاپان میں سانس لینے لگتے ہیں۔
پچھلے ہفتے کسی محفل میں عامر بن منیر نام کے ایک بانسائی شیدائی سے ملاقات ہو گئی، موصوف مجھ سے کہیں زیادہ بانسائی خبطی ہیں، پیشے کے حوالے سے پرنٹنگ انجینئر ہیں، پچیس برس ایک بین الاقوامی ادارے کے ساتھ منسلک رہے اور اب اپنے ذاتی کاروبار میں مصروف ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو بانسائی سے کیسے دلچسپی ہو گئی، کہنے لگے میں کاروبار کے سلسلے میں باقاعدگی سے جاپان اور چین جاتا ہوں، تقریباً آٹھ برس پیشتر یونہی وقت گزاری کے لیے ایک نرسری میں جا نکلا اور وہاں بانسائی نمائش پر تھے اور میں ان کا گرویدہ ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن میں اس جمالیاتی مختصر درخت کے عشق میں مبتلا ہوں۔ یہاں تک کہ چین میں زراعت کا ایک مختصر کورس بھی اٹینڈ کیا تا کہ بانسائی کی باریکیوں سے آگاہ ہو سکوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سب سے قدیم بانسائی درخت جو پانچ سو ساٹھ سال پرانا ہے ان دنوں ٹوکیو میوزیم میں نمائش پر ہے۔۔۔ یہ جونیپر کا درخت ہے جو آٹھ پشتوں سے ایک ہی خاندان میں چلا آ رہا تھا اور اب اسے حکومت کے سپرد کر دیا گیا ہے تا کہ اس کی مناسب دیکھ بھال ہو سکے۔ اس درخت کو جاپان کا قومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔۔۔ عامر بن منیر کا کہنا تھا کہ دو ہزار برس پہلے بانسائی تخلیق کرنے کا فن چین میں شروع ہوا۔ تقریباً ایک ہزار برس پیشتر ایک بدھ بھکشو ایک درخت جاپان لایا اور جاپانی شہنشاہ کی خدمت میں پیش کیا۔۔۔ اور یوں جاپانیوں نے اس کو نپ لیا کہ یہ اُن کے مختصر ملک کے لیے بے حد موزوں تھا۔۔۔ اگلے روز عامر بن منیر مجھے نہر کنارے ای ایم ای سوسائٹی کے قریب اپنے قائم کردہ بونسائی سنٹر ’’پلینے ٹیریم‘‘ لے گئے جہاں اُنہوں نے مجھے بانسائی کے علاوہ قدیم درختوں کے حیرت انگیز نمونے دکھائے۔ مثلاً ایک ساڑھے تین سو برس پرانے تنے کو کسی عمل کے ذریعے دوبارہ زرخیز کیا گیا اور اب اس میں سے پتے پھوٹ رہے تھے۔۔۔ ایک خشک ہو چکا تقریباً پتھر ہو چکا کدو سا تھا جس میں سے شاخیں نکل رہی تھیں۔ علاوہ ازیں کرسمس ٹری پھولدار جھاڑیوں اور پتھر چٹ پودے کے بھی بے حد پر کشش بانسائی نمائش پر تھے۔۔۔ یہ اُن کا کاروبار نہیں ایک ذاتی مشغلہ ہے۔ جاپان جاتے ہیں مشینیں خریدتے ہیں پھر بانسائی درختوں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ عامر بن منیر سے یہ ملاقات میرے لیے انتہائی خوشی کا سبب ہوئی۔۔۔ کہ ایسے باذوق لوگ ہمارے معاشرے میں کم کم پائے جاتے ہیں۔
بانسائی کے بارے میں یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے ایک عجیب سا خیال آیا کہ ہم سب پاکستانی بھی تو بانسائی ہو چکے ہیں۔۔۔ ہم ایک قد آور شجر کی مانند بلند نہیں ہو سکے۔ ٹھگنے اور بونے ہو گئے ہیں۔ بانسائی ہو چکے ہیں۔۔۔ برسوں سے جہالت، تنگ نظری، مذہبی اور لسانی تعصب ہماری جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ہمیں بڑھنے نہیں دیتے اور ہم پر جو پھول آتے ہیں، بدن میں سے پتے پھوٹتے ہیں انہیں کرپشن اور بے غیرتی کی قینچیاں مسلسل کاٹتی جاتی ہیں اور ہمارا قد نہیں بڑھتا۔۔۔ ہم کیسے شاندار اور بلند قامت ہوا کرتے تھے اور اب اپنوں کے ہاتھوں بونے ہو گئے ہیں۔۔۔ بانسائی ہو گئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *