امریکہ کے بانیوں کی جنسی زندگی سے متعلق انکشافات

Hamiltonکیا ہملٹن غیرمحتاط جنسی رجحان رکھتے تھے؟ کیا جیفرسن کو اپنے غلام سے محبت تھی؟ ایک نئی کتاب میں دئیے گئے دلائل کے مطابق، ہر نسل اپنے بانیوں کی جنسی زندگیوں کے جائزے کے ذریعے اپنی ذاتی جنسی روایات اور شناخت کی عکاسی کرتی ہے۔
مدتوں پہلے جنس کے موضوع پر لکھنے والے جدید کالم نگاربنجمن فرینکلن نے اپنے ایک کالم ’’خاتون کے انتخاب سے متعلق نصیحت‘‘ میں لکھا تھا کہ کنوارے صرف بڑی عمر کی عورتیں تلاش کریں کیونکہ ان سے ’’بچوں کا خطرہ‘‘ نہیں ہوتااور مزید یہ کہ وہ نوجوان آدمی کی جانب سے توجہ ملنے پر ہمیشہ شکر گزار بھی رہتی ہیں ۔’’ تاہم اس کے متعلق بات کرتے ہوئے کہ جوخاتون کے جانگیے کے نیچے ہوتا ہے،‘‘ وہ اضافہ کرتے ہیں’’یہ ناممکن ہوتا ہے کہ ایک جوان آدمی ایک بوڑھی عورت کو خاطر میں لائے۔‘‘
فرینکلن امریکہ کے بانیوں میں شامل واحد شخص نہیں کہ جن کا جنسی سفر، مسلسل موضوعِ گفتگو رہا ہے۔تھامس جیفرسن کے سیاسی مخالفین نے ان کے پھولے سوجے کارٹون شائع کئے جو اپنے غلام، سلے ہیمِنگز سے ان کے تعلقات کی نشاندہی کرتے تھے۔ الیگزینڈر ہملٹن نے ، بل کلنٹن سے دو صدیاں قبل، شادی کے بغیراپنے ایک افیئرکے بارے میں عوام سے معافی مانگی تھی۔
جیسا کہ ایک فری میسن مؤرخ ، تھامس فوسٹر اپنی نئی کتاب ، ’’جنس اور بانیان:ایک مماثل ماضی کے لئے امریکیوں کی تلاش ‘‘میں لکھتے ہیں کہ جارج واشنگٹن بھی ہم جنس پرست ہونے سے متعلق افواہوں کا شکار رہے۔
فوسٹرکو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ یہ کہانیاں سچی ہیں یا جھوٹی۔ جو بات اسے متاثر کرتی ہے، اور جو اس کی کتاب کا مرکزی موضوع بھی ہے، وہ یہ ہے کہ عوام ہمیشہ اپنے ملک کے بانیوں کی جنسی زندگیوں کے متعلق جاننے کے خواہشمند رہے ہیں۔ فوسٹر دلائل دیتے ہیں کہ اگرچہ جنس ہمیشہ ہدف تنقید رہی ہے مگر ایک طرح سے اس کی تعریف بھی کی جاتی رہی ہے۔بانیوں کے اس رجحان کا کھوج لگاتے ہوئے امریکی، ان کا اپنی زندگیوں سے موازنہ کرتے ہیں۔اس طرح بانیانِ ملک انہیں ہیروز کے ساتھ ساتھ انسان بھی نظر آنے لگتے ہیں۔
’’میں جس بات کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ امریکہ کا آئین بنانے والوں یا اس ملک کی بنیاد رکھنے والوں کی جنسی زندگیوں میں دلچسپی لینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘ فوسٹر نے ایک انٹر ویو میں کہا۔ ’’یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب، بانیوں کی ہماری زندگیوں سے مماثل، کہی ان کہی فطرت کے متعلق ہے۔ اگر یہ کہانیاں، عام قارئین کے ساتھ کوئی مماثلت نہ رکھتی ہوں گی تو پھربانیوں کا عوام سے رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا۔ اور اگر بانی عوام کے ساتھ ناقابلِ موازنہ ہوں گے تو پھر ہمارا ماضی سے رشتہ برقرار ہی نہ رہ سکے گا۔اور اگر قوم کا ماضی سے رشتہ برقرار نہ رہے تو پھر وہ ایک دوسرے سے بھی منسلک نہیں رہ سکتی۔
ایک روایتی علمی کتاب کی نسبت فوسٹر کے موضوع کو زیادہ قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہئے۔لیکن انہیں اس کتاب سے ایک سنجیدہ پیغام کی توقع کرنی چاہئے۔ ہم بانیوں کی جنسی زندگیوں کے متعلق کہانیوں کی کھوج میں رہتے ہیں، لیکن ان تکلیف دہ سچائیوں کو برداشت نہیں کر پاتے۔ فوسٹر لکھتے ہیں، ’’لہٰذا انہیں ایک مثبت روشنی میں لانے کے لئے ہم انہیں کئی طریقوں سے پیش کرتے ہوئے، دوبارہ لکھتے ہیں، دوبارہ عام کرتے ہیں اور دوبارہ یاد کرتے ہیں۔‘‘ ہمارا ’’افسانوی نقطہء نظر‘‘ ہمیں اس حقیقت کے قریب نہیں جانے دیتا کہ ہمارے بانیانِ ملک دراصل تھے کون ؟ یوں آخر کار ہم ’’صرف حال کی خدمت کرتے ہیں۔‘‘ تاریخ کی کوئی خدمت نہیں کرتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *