اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام، تین عرب ممالک نے قطر سے اپنے سفیرواپس بلوالیے

Qatar-and-Saudi-Arabiaسعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے مشترکہ طور پر قطر پر اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق خلیجی ملکوں کی تنظیم گلف کو آپریشن کونسل میں شامل ان تین ملکوں نے بدھ کو یہ اعلان ایک مشترکہ بیان میں کیا جس میں مزید کہا گیا کہ قطر تین ماہ قبل ریاض میں ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا ہے۔حالیہ برسوں میں قطر اور دیگر خلیجی ملکوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ سوموار کو ریاض میں ایک اجلاس میں تینوں ملکوں نے قطر کو یہ سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ وہ 2013 میں مشترکہ سیکیورٹی کے معاہدے پر عمل درآمد کرے۔ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بیان میں کہا گیا کہ بڑے افسوس سے کہا جا رہا ہے کہ قطر معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہا تاہم بیان میں کوئی تفصیل اور کوئی تعین نہیں کیا گیا کہ قطر کی طرف سے کیا خلاف ورزی کی گئی ہے۔ان ملکوں کے مطابق ان کی اپنی سیکیورٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھا کہ قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا جائے۔ بیان کے مطابق اس کا فیصلہ قطر کی طرف سے اس معاہدے پر عملدرآمد میں ناکامی پر کیا گیا جس کے مطابق خلیجی ممالک ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ خلیج تعاون کونسل کے نام سے عرب ممالک کے اس اتحاد کی تین دہائیوں پر محیط تاریخ میں اس طرح کے واقعے کی یہ پہلی مثال ہے۔ مغرب نواز سمجھے جانے والے اس اتحاد میں سعودی عرب، بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان شامل ہیں۔قطر کے الجزیرہ نیوز نیٹ ورک کے ٹی وی چینل کی انگریزی اور عربی زبانوں میں نشریات دنیا بھر میں دیکھی جاتی ہیں اور اکثر اس کی خبروں اور تجزیوں میں خلیجی ممالک کے اندرونی مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے اور خلیجی اور عرب حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقیدی جائزے اور تجزیے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔قطر مصر میں اخوان المسلمون کا سب سے بڑا حمایتی ہے جبکہ اس تنظیم پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پابندی ہے،الجزیرہ کے تین نمائندے مصر میں گزشتہ کئی مہینے سے قید ہیں۔خیال رہے کہ قطر بھی گلف کوآپریشن کونسل کا رکن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *