امداد اور نہایت سادہ تصورات

zakariaرفیعہ زکریا

ناروے کے طلبا اور تعلیم کے لئے بین الاقوامی معاونت فنڈ کی جانب سے پیش کردہ امداد کی مختصر اپیل کی ویڈیوز میں سے ایک نے بازی پلٹ دی ہے۔ناروے کے امیر لوگوں کو فاقہ زدہ افریقیوں کو امداد دیتے ہوئے دکھانے کی بجائے مسکراتے اور گاتے افریقیوں کو منجمد اہل ناروے کے لئے ہیٹر اور ریڈیئٹر جمع کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
نتیجہ،ان نہایت سادہ تصورات میں سے ایک مؤثر اورزبردست تصوررہاجنہیں مختلف تنظیمیں پیسے جمع کرنے کے لئے اختیار کرتی ہیں۔ ہمدردی، احساس اور ترس پر مبنی ہونے کی بجائے، نہایت سادہ تصورات پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ یہی وہ تصورات ہیں جن پر دنیا کے خوشحال لوگ انحصار کرتے ہیں اور یہی تصورات وہ دنیا کے محروم لوگوں کو پیش کرتے ہیں۔
یہ ویڈیو اس گروہ کی جانب سے رلیز کی جانے والی اکلوتی ویڈیو نہیں ہے۔اس گروہ اور اس کی ویڈیوز کا مقصد چندہ جمع کرنا ہے۔ایک اور ویڈیو میں، جس کا موضوع یہ ہے کہ ’’افریقہ کو تباہ ہونے سے کس طرح بچایا جائے؟‘‘ایک ننھے اداکار نے ’’فاقہ زدہ افریقی لڑکے‘‘ کا کردار ادا کیا ہے۔ چند مناظر میں وہ مزاحیہ تاثرات شامل کئے گئے ہیں جن کا اظہار لوگ افریقہ کے متعلق کرتے رہتے ہیں۔ایک سفید فارم عورت اس ننھے لڑکے کو ایک پیسٹری دینے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ ایسی چیزیں افریقہ میں نہیں پائی جاتیں۔سکرین پر یہ جملے نمودار ہوتا ہے: امداد ایک صنعت ہے اور اس کے سامعین وہ گورے نجات دہندہ ہیں، جن کی ہمدردی پر ترقی پذیر دنیا کے فنڈز منحصر ہیں۔
جیساکہ یہ ویڈیوز تیار کرنے والی تنظیم میں کام کرنے والے سِنڈرایڈلینڈ، الجزیرہ امریکہ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ’’امدادکے مزاحیہ انداز‘‘ سے منسوب فنکارانہ کام کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے ذریعے مغرب کے برتری کے مفروضوں پر سوال اٹھایا گیا ہے، جو بذاتِ خود ایک چال ہے۔کچھ امدادی کارکن اس پریشانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ایسے لطیفے لوگوں کو پیسے نہ دینے پر اکسائیں گے۔ بہرحال، وہ جو دیتے ہیں، یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے اس کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ اگر ان کا مذاق اڑایا جائے گا تو شاید وہ امداد دینے سے اجتناب کریں گے۔
ایڈلینڈاس خدشے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کی رائے میں، طنزو مزاح، غلط سمت میں رہنمائی کرنے والے مفروضوں اور سادہ تصورات کی جانب توجہ مبذول کروانے کے اچھے طریقے ہیں۔تکلیف زدہ افریقی بچوں کی تصویریں زیادہ تر اہل مغرب کے اذہان میں رچ بس گئی ہیں اور اب ان تصویروں کو ان کے اذہان سے نکالنے کی ضرورت ہے۔
افریقہ محض ایک پیمانہ نہیں ہے کہ جس کے ذریعے اہل مغرب کی برتری مسلسل اپنی نیکیوں کی پیمائش کرتی رہے۔ترقی پذیر دنیا کے بیماری زدہ بچوں اور تباہ حال معاشروں کے مقابلے میں اہل مغرب کے خوش قسمت ہونے کے اصول کو حقائق کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
بحث دلچسپ ہے اور اب تک اس کی تقسیم’’ ایک طرف مغرب اور دوسری طرف باقی سب‘‘ کے اصول کے مطابق کی گئی ہے۔ زیادہ تر پاکستانیوں کے متعلق یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ان سادہ تصورات کے خلاف لڑتے ہوئے افریقیوں پر دل ہی دل میں ہنسنے کے لئے کافی وقت رکھتے ہوں گے۔بہرحال، پاکستان کو بھی بار بار یہی کردار دیا جاتا رہا ہے۔
مظلوم عورتوں، سیلاب زدہ دیہاتوں اور بے گھر قافلوں کی تصویریں، سب پیسے جمع کرنے کی اپیلوں میں استعمال ہو چکی ہیں۔ جیسا کہ افریقہ کے معاملے میں یہ تصاویر سچ کی عکاسی کرتی ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی ان مظلوموں کے تمام گروہ موجود ہیں اور مدد کے طالب ہیں۔ اور دنیا کے امداد فراہم کرنے کے سارے نظام،امداد دینے والے امیراہلِ مغرب کے سامنے ، ان تمام تکلیف زدہ پاکستانیوں کی بے چارگی کو پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔لیکن پاکستانی اسے پسند نہیں کرتے۔ یہ سادہ تصور اپنے اندر حقیقت کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے۔ لیکن ہم سب اس رائے کو اپنا سکتے ہیں کہ ہماری اور افریقہ کی صورت حال میں فرق کو ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔
البتہ، اگر ’’مغرب اور باقی دنیا‘‘کو محور بنانے والے عالمی تضادات سے نظریں ہٹاکر صرف پاکستان پر توجہ مرکوز کی جائے تو نتائج شاید مختلف ہوں گے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے تمام ٹی وی کیمرے اور نیوز رپورٹر، تھر کے فاقہ زدہ خاندانوں پر ٹوٹنے والی ایک نہایت مقامی آفت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ اگر افریقہ اور ایشیا کے متعلق سادہ تصورات اس وقت تکلیف دہ ہوتے ہیں، جب انہیں مغربی دنیا کی امداد پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے تو اسی طرح یہ تصورات اس وقت بھی مختلف مسائل کاشکار ہو جاتے ہیں جب انہیں مقامی لوگوں کی امداد پر بھروسہ کرنا ہوتا ہے۔
کیا لاہور اور کراچی اور اسلام آباد میں رہنے والے امراء کو یہ سمجھانے کے لئے کہ صورت حال ہنگامی نوعیت کی ہے اور انہیں فوری طور پر ان لوگوں کی امداد کرنی چاہئے، مرتے ہوئے شیرخوار بچوں اور بین کرتی ہوئی عورتوں کی تصویریں دکھانا ضروری ہیں؟
اس طرز عمل کی کوکھ سے جنم لینے والے اخلاقیات کے سوال کا جواب ان لوگوں پر قرض ہے کہ جو مایوسی اور بے بسی کی عکاس تصاویر کھینچتے اور ویڈیوز بناتے ہیں۔ تھر کے فاقہ زدگان کے معاملے میں یہ سوال کرنا فائدہ مند ہو سکتا ہے کہ کیا وہ خود اپنی ایسی تصاویر بنوانے پر راضی ہونے کی ہمت رکھتے ہیں؟ اور پھر ہمیں یہاں چند لمحے توقف کرنا اور اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ کیاہم خود طبعی اور ماحولیاتی بے سروسامانی کے ایسے مایوس کن حالات میں اپنے اہل خاندان کی تصاویر بنوانا پسند کرتے؟
یہ مسئلہ عزت اور دوسرے کے احساسات کو سمجھنے کے درمیان روابط پر منحصر ہے۔ چاہے یہ مغرب کے امراء ہوں یا اپنے ہی ملک کے پسماندہ علاقوں میں بسنے والے فاقہ زدگان کی جانب دیکھنے والے پاکستان کے امراء، انہیں سمجھ جانا چاہئے آیا کہ وہ اپنے لوگوں کی آسانی سے امداد کر سکتے ہیں یانہیں اور یہ کہ کیا وہ خاموشی سے ان مظلوموں کی مدد کرکے ان کی عزت نفس کو مزید ٹھیس پہنچنے سے بچا سکتے ہیں یا نہیں؟کسی کی عزتِ نفس کا تحفظ، ایک مختلف نقطہ نظر کا مطالبہ کرتا ہے۔اس نقطہ نظر کے تحت کسی کے درد کی تشہیر نہیں کی جاتی۔ کسی کی تکالیف کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا۔اور ان لوگوں کو منع کیا جاتا ہے جو یہ تصویریں اور مناظردکھا دکھا کر صرف مظلوموں کی تکالیف میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *