ملالہ اور ہمارا قومی رویہ

Irfan Hussain

(عرفان حسین)

عزیز قارئین ، ہو سکتا ہے کہ آپ نے یہ بات سنی ہوئی ہو، اس لیے دہرانے پر پیشگی معذرت، لیکن بعض اوقات کہی ہوئی باتوں کی تازگی بھی فطرت کی طرح نہیں بدلتی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک صاحب کو فرشتہ دوسری دنیا میں لے گیا۔ وہاں اُس نے دیکھا کہ عقربی برتنوں کے نیچے خوفناک آگ جل رہے ہیں ۔ان کے گرد دیوہیکل محافظ ہیں ۔ جب کوئی گناہ گار باہر آنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ گرز مار مار کر ان کو واپس دھکیل دیتے ہیں۔ جب وہ صاحب ایسے برتن کے پاس سے گزرے جس میں پاکستانیوں کو ڈالا گیا تھا تو اُس نے دیکھا کہ اس کے کناروں پرکوئی محافظ نہیں ہے۔ جب اس کی وجہ پوچھی تو فرشتے نے جواب دیا...’’جب ان میں سے کوئی پاکستانی باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو باقی اُس کی ٹانگ کھنچ کر نیچے گرا لیتے ہیں۔ اس لیے یہاں محافظوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
اس وقت بے چاری ملالہ یوسفزئی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔اقوامِ متحدہ میں اس کی شاندار تقریر کے بعد دائیں اور بائیں بازو والے،دونوں اُس کی ساکھ تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ اس کے خلاف بہت سی ای میلز گردش میں ہیں جن میں اس کو شیطان کا مہرہ یا امریکی ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ نکتۂ نظر وہ ہے جسے میں اکثر اپنی قومی خامی سے تعبیر کرتا ہوں۔ ہم اکثر اوقات کسی بات سے اتفاق تو کر لیتے ہیں، لیکن ہم کہیں گے...’’ٹھیک ہے، لیکن...‘‘ اس کا مطلب ہے کہ جس چیز کو ہم ٹھیک بھی سمجھتے ہیں، اس پر فوراً ہی کچھ سوال بھی اٹھا کر اُسے متنازعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ موقف طالبا ن کے حوالے سے بہت مستعمل ہے۔ اکثر لوگ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ طالبان دھشت گرد ہیں، لیکن فوراً ہی امریکی مخالفت کے جذبات دل میں موجز ن ہوجاتے ہیں اور کہا جاتا ہے...’’کیا امریکی ڈرون حملے دھشت گردی سے کم ہیں؟‘‘ اس کے بعد اپنے کسی شہر میں ہونے والی دھشت گردی ، جس میں عام شہری ہلاک ہوئے ہوں، کو عراق، افغانستان اور اسرائیل کی کاروائیوں سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس اخلاقی کنفیوژن میں طالبان کو سزا دینے کے لیے قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوپاتا ہے۔ اور تو اور، میرے پرانے دوست ایاز امیر بھی اسی رو میں بہہ نکلے۔ اپنے گزشتہ کالم میں لکھتے ہیں...’’ملالہ کہتی ہے کہ دھشت گردوں نے ہزاروں افراد کو ہلاک کر دیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دھشت گردکون ہیں؟اگر ہم دھشت گردی کی امریکی تعریف کو درست سمجھیں تو طالبان اور القاعدہ والے دھشت گرد ہیں۔ لیکن کیا یہ سوال پوچھا جانا بے محل ہوگا کہ11 ستمبر کے حملوں کے بعد کس نے زیادہ انسانوں کو ہلاک کیا ہے؟ طالبان یا امن اور انسانی حقوق کے نام نہاد چمپئن امریکیوں نے ؟‘‘مسٹر ایاز، یہ بے محل سوال ہے کیونکہ دھشت گرد وہ افراد ہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نہتے شہریوں کو ہلاک کر تے ہیں جبکہ دوسری طرف ریاستیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جارحانہ کاروائیاں کر سکتی ہیں۔ اس ضمن میں بہت سے بین الالقوامی معاہدے اور قوانین موجود ہیں جو ریاستوں کو جنگ کرنے یا اس سے بچنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے طاقت کے بے جا استعمال ، جس میں انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے، پر تنقید کی جانی چاہیے، لیکن اس کی ذمہ داری ملالہ کے کندھوں پر ڈالنا ناانصافی ہوگی۔ ایاز امیر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں...’’اس پر ملالہ کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا‘‘، لیکن پھر اس کی تقریر کے ساتھ امریکیوں کی کاروائیوں کو نتھی کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟ایسا لگتا ہے کہ ایاز امیر بھی بہت سے پاکستانیوں کی طرح طالبان کو آزادی کے مجاہد قرار دیتے ہیں۔ ٹھیک ہے تو پھر یہ بھی بتائیں کہ یہ جہادی کس سے ملک کو آزاد کرانا چاہتے ہیں؟جب وہ پاکستانیوں ، جیسا کہ کوئٹہ کی ہزارہ برادری، کو خون میں نہلا دیتے ہیں تو اس کے پیچھے کس آزادی کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے؟یا پھرجب وہ بچوں کے سکولوں کو تباہ کرتے ہیں تو کس آزادی کی شمع روشن کررہے ہوتے ہیں؟یا جب وہ پاکستانیوں کا سرقلم کرتے ہیں تو اس سے کس آزادی کا پرچم بلند ہوتا ہے؟دائیں اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بہت سے پاکستانی جو دل میں امریکی نفرت رکھتے ہیں، دراصل اپنے گرد و نواح میں پیش آنے والے واقعات سے آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی دوسری قوم کی بجائے ہم پاکستانی پاکستانیوں کے ہاتھوں ہی اذیت جھیل رہے ہیں۔ خدا کے لیے پاکستان طالبان کو ویت کانگ یا پی ایل او کے مرتبے پر فائز نہ کریں، قاتلوں کا یہ گروہ چالیس ہزار پاکستانی شہریوں کی جان لے چکا ہے۔ ا ن کے نزدیک اپنے نظریات کی ترویج کے لیے آدمیوں، عورتوں اور بچوں کی جانوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
ملالہ کے خلاف زہر فشانی کا ایک ثبوت اس میل میں دیکھیں...’’ اُسے تعلیم یا ملک کے امییج سے کوئی سروکار نہیں ہے، وہ بس مغربی ممالک میں پرتعیش زندگی کی خواہاں ہے۔‘‘حقیقت یہ ہے کہ ملالہ صحت یابی کے بعد کوئی پر تعیش زندگی بسر نہیں کر رہی ہے۔ اس کے والد برمنگم میں پاکستانی سفارت خانے میں ایجوکیشن آفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ ملالہ دوسرے طلبہ کی طرح سکول جارہی ہے اور وہاں کی سکول کی پڑھائی بہت محنت طلب ہے۔ چناچہ وہ وہاں عیش نہیں کررہی ہے۔ یہ تنقید مشرف کے بدنامِ زمانہ بیان کی یاد دلاتا ہے جب اُنھوں نے مختاراں مائی کے گینگ ریپ کے حوالے سے کہا تھا کہ اس سے اُس کو بیرونِ ملک جانے کا موقع مل گیا۔ اس سے ایک بات ظاہر ہوتی ہے کہ چاہے وہ کم ظرف میل کرنے والا ہو یا ملک کا سابقہ صدر، دونوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ ملک میں کیا ہورہاہے، انہیں ملک کے امیج کی فکر کھائے جارہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں خواتین کی زندگی بہت مسائل کا شکار ہے۔ عالمی اعداد وشمار کے مطابق، پاکستانی معاشرے میں عورتیں دشوار ترین زندگی گزارتی ہیں۔ اس ضمن میں ہم بھارت ، افغانستان اور صومالیہ کے ’’ہم منصب ‘‘ ہیں۔ حالیہ دنوں ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان میں دو لڑکیوں کو اُن کے رشتہ داروں نے صرف اس لیے موت کے گھاٹ اتار دیا کہ ان کے بارش میں کیے جانے والے رقص کی فلم کسی نے انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کر دی تھی۔ ایک اور عورت کو جرگے نے صرف اس لیے سزائے موت سنادی کہ اُس بدقسمت کے پاس ایک موبائل فون تھا۔ اس طرح کی سفاکی کی بہت سی کہانیاں ہیں لیکن وہ قومی اخبارات کے صفحہ چھے پر بھی بمشکل ہی جگہ پاتی ہیں۔ شاید ہی کوئی دن گزرتا ہوجب عورتوں کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب نہ کیا جاتا ہو۔
ہمارے اس تنگ نظری کے ماحول میں جب کوئی عورت اپنی صلاحیتوں کی بدولت کوئی مقام حاصل کرتی ہے تو کیا ہمیں اُس پر فخر نہیں کرنا چاہیے؟کیا ہمیں اُس پر سنگ باری کی بجائے پھولوں کی پتیاں نہیں نچھاور کرنی چاہیں؟ جب کوئی عورت اس کھولتی ہوئی آگ سے باہر آنے کی کوشش کرے تو کیا اُسے واپس دھکیل دینا چاہیے؟افسوس، جب طالبا ن کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں کسی لڑکی نے ثابت قدمی دکھائی توہم طالبا ن کے ہم قدم ہولیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملالہ کی اس ملک میں پذیرائی ہوتی لیکن باقی دنیا اس کی تعریف کررہی ہے اور ہم اُس پر تنقید کررہے ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *