پھر وہی منظر آیا…

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ گوجرانوالہ کے جناح سٹیڈیم کا تو محض نام ہوگا، صرف ایک علامت‘ اصل میں تو اِدھر لاہور سے گوجرانوالہ اور اُدھر گوجرانوالہ سے لالہ موسیٰ تک ساری جی ٹی روڈ جلسہ گاہ ہوگی۔ اطراف سے آنے والی سڑکوں پر بھی شاید یہی کیفیت ہو۔ مولانا فضل الرحمن جامعہ اشرفیہ لاہور میں نماز جمعہ کی امامت کے بعد ریلی کے ساتھ گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ مریم نواز کو بھی لاہور سے جانا ہے۔ جاتی امرا کے راستوں کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے لیکن کیا مریم نواز جاتی امرا ہی میں ہوں گی یا حفظِ ماتقدم کے طور پر کسی ''محفوظ مقام‘‘ پر منتقل ہو چکی ہیں۔ 13جولائی 2018 کو جب میاں صاحب کو مریم کے ہمراہ لندن سے لاہور پہنچ کر گرفتاری دینا تھی اور مسلم لیگ نے شہباز شریف کی زیر قیادت ایک بہت بڑے جلوس کے ایئر پورٹ پہنچنے کا پروگرام بنایا تھا، تو شہباز صاحب نے وہ رات اندرون شہر لوہاری گیٹ میں ایک کارکن کے ہاں گزاری تھی۔ بلاول لالہ موسیٰ میں قمر زمان کائرہ کی رہائش گاہ سے روانہ ہوں گے۔
ہمیں یہاں 15 مارچ 2009 یاد آیا، چیف جسٹس افتخار محمد چودھری والی عدلیہ کی بحالی کے لیے نواز شریف کی زیرِ قیادت تاریخی (بلکہ تاریخ ساز) لانگ مارچ ہوا… اس سے قبل 10 جون 2008 کو بھی اسلام آباد تک وکلاء کا لانگ مارچ ہوا تھا۔ تب اعتزاز احسن سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ اپریل 2007 میں جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں معطلی کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کے لیے نکلے، تو اعتزاز احسن ہی ان کی گاڑی ڈرائیو کیا کرتے تھے۔ 10 جون 2008 کو یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، لیکن پرویز مشرف ابھی ایوانِ صدر میں براجمان تھے۔ 10 جون کا یہ لانگ مارچ بھی ملک گیر تھا۔ ملتان سے جاوید ہاشمی اس کا حصہ بنے۔ لاہور میں میاں نواز شریف بھی شامل ہو گئے۔ رات گئے یہ قافلہ اسلام آباد پہنچ گیا۔ نواز شریف کے بعد آخری خطاب، اعتزاز احسن کا تھا۔ ان کی طرف سے لانگ مارچ کے خاتمے (اور پُرامن طور پر منتشر ہونے) کا اعلان شرکاء کے لیے حیرت اور مایوسی کا باعث تھا کہ انہیں تو یہ بتایا گیا تھاکہ اسلام آباد پہنچ کر دھرنا ہو گا‘ جو عدلیہ کی بحالی تک جاری رہے گا۔
15مارچ 2009 کے لانگ مارچ کو، ججوں کی بحالی کے بعد ہی اسلام آباد سے واپس آنا تھا۔ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کی معطلی کے بعد گورنر راج نافذ تھا (سلمان تاثیر گورنر تھے) 15 مارچ کو لاہور سے یہ لانگ مارچ نواز شریف کی زیر قیادت روانہ ہونا تھا۔ وہ 14 مارچ کی شب جاتی امرا سے ماڈل ٹائون آ گئے تھے (ان کی آمد اعلانیہ تھی۔ یہاں پُر جوش کارکنوں کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ '' اب یا کبھی نہیں‘‘ (Now or Never) کا مرحلہ آن پہنچا، انگریزی محاورے میں اسے Do or Die کہہ لیں۔ ماڈل ٹائون کی طرف جانے والے تمام راستے، بند کردیئے گئے تھے۔ نماز ظہر کے بعد 180-H ماڈل ٹائون سے اپنے خطاب میں نوازشریف کا اہلِ لاہور سے کہنا تھا: میں نکل رہا ہوں، تم بھی نکل آئو۔ (ٹی وی چینلز ''بال ٹو بال کمنٹری‘‘ کررہے تھے) حمزہ نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔ میاں صاحب سوار ہو رہے تھے کہ موبائل پر کال موصول ہوئی، یہ رچرڈ ہالبروک تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب ایک خطرناک سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔ راستے میں کچھ بھی ہو سکتا ہے، اشارہ 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو والے المیے کی طرف تھا۔ یہ دھمکی تھی یا دوستانہ مشورہ؟ لیکن نواز شریف اسے خاطر میں نہ لائے۔ انہوں نے شکریے کے ساتھ کال کٹ کر دی۔
اِدھر مال روڈ پر ہائی کورٹ چوک میں صبح ہی سے وکلا اور پولیس باہم برسرِ پیکار تھے۔ اُدھر اعتزاز احسن کی رہائش پر ایک پولیس افسر ان کی نظربندی کے حکم لیکر پہنچا۔ میڈیا بھی موجود تھا۔ اعتزاز احسن نے دھواں دھار خطاب کے بعد، نظر بندی کا حکم وصول فرمایا اور نظربندی کے لیے اندر تشریف لے گئے۔
یوں لگتا تھاکہ سارا لاہور نوازشریف کے ساتھ گھروں سے نکل آیا ہے۔ گھروں کی چھتیں، خواتین سے بھری ہوئی تھیں۔ راوی کے پل پر رکاوٹوں کو ہٹانے کے لیے قریبی دیہات سے لوگ اپنے ٹریکٹر لے آئے تھے۔ اعتزاز احسن بھی نظر بندی توڑ کر، نوازشریف کی گاڑی میں آبیٹھے تھے۔ جی ٹی روڈ پر، دونوں طرف لوگ ہی لوگ تھے۔ اُدھر راولپنڈی میں سڑکیں انسانوں سے لبالب تھیں۔ یہاں شہباز شریف اور عمران خان مناسب وقت پر منظر عام پر آنے کے لیے محفوظ مقام پر موجود تھے۔
ایوان صدر میں جناب زرداری اور وزیر اعظم گیلانی سرجوڑے بیٹھے تھے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک بھی یہاں موجود تھے اور جی ٹی روڈ سے لمحہ بہ لمحہ رپورٹ لے رہے تھے کہ آرمی چیف جنرل کیانی بھی ایوانِ صدر پہنچ گئے۔ سڑکوں پر ہجوم کے باعث وہ ہیلی کاپٹر میں آئے تھے۔ امن و امان میں مدد کے لیے سول حکومت کے طلب کئے جانے پر فوج کا آنا، اس کی آئینی ذمہ داری ہے لیکن اگر ساری قوم سڑکوں پر ہو تو؟… جنرل کیانی، جناب صدر اور وزیر اعظم کو حالات کی سنگینی کا احساس دلانے میں کامیاب ہوگئے تھے، اور وہ 2 نومبر 2007 والی عدلیہ کی بحالی پر آمادہ ہوگئے تھے۔ نوازشریف ابھی گوجرانوالہ سے ادھر ہی تھے کہ انہیں یہ خوش خبری پہنچا دی گئی۔ کیا 16 اکتوبر کو جی ٹی روڈ پر پھر یہی منظر ہوگا؟ لگتا تو ایسا ہی ہے۔ احمد مشتاق یاد آئے ؎
چاند پھر ان کے دریچے کے برابر آیا
دلِ مشتاق ٹھہر پھر وہی منظر آیا
ہمارا مطلب یہ نہیں کہ 15مارچ 2009 کی طرح، 16 اکتوبر 2020 کی شب بھی کوئی ٹیلی فون کال آئے گی اور حکومت کے خاتمے کی خوشخبری کے ساتھ پی ڈی ایم کی تحریک تکمیل کو پہنچ جائے گی۔ خود پی ڈی ایم کو بھی سفر کی طوالت کا اندازہ ہے۔ گوجرانوالہ کا جلسہ منزل کی جانب سفر کا پہلا مرحلہ ہے۔ ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔ گوجرانوالہ کے بعد کراچی، پھر پشاور اور کوئٹہ۔ پانی پت کا میدان پنجاب کو بننا ہے۔ پشاور کے بعد ملتان، دسمبر کے آخر میں لاہور اور پھر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ جسے پی ڈی ایم کی قیادت آخری اور فیصلہ کن مرحلہ قرار دے رہی ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ استعفوں کے آخری آپشن کو آزمانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
گوجرانوالہ جناح سٹیڈیم میں جلسے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی طرف سے جو شرائط عائد کی گئی ہیں‘ اِن میں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور آئین پاکستان کے خلاف لب کشائی پر پابندی اہم ترین شرط ہے۔ قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے کسی کی کوئی لڑائی نہیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں انہیں قابلِ احترام قرار دیتی ہیں۔ 20 ستمبر کو پی ڈی ایم کے تاسیسی اجلاس سے نواز شریف کے آن لائن خطاب میں بھی قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف کوئی بات نہ تھی۔ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے ان کے خطاب میں بھی قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے لیے محبت اور احترام کا واشگاف اظہار تھا۔ انہوں نے سیاچن اور کنٹرول لائن پر اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے افسروں اور جوانوں کو ہاتھ اٹھا کر سلیوٹ کیا تھا۔
ووٹ کو عزت دو کے نعرے میں آئینِ پاکستان کے خلاف کیا ہے؟ یہ تو آئین پاکستان کا عین تقاضا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *