فروری میں مہنگائی کی شرح کم ہوکر 12.4 فیصد ہوگئی

پاکستان کے ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق فروری کے مہینے میں مہنگائی کی شرح حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کے بعد گزشتہ ماہ کے 14.6 فیصد سے کم ہوکر 12.4 فیصد ہوگئی۔

 رپورٹ کے مطابق جولائی 2019 کے بعد پہلی مرتبہ کنزیومر پرائز انڈیکس (سی پی آئی) نے اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی اور اشیائے خور و نوش کی سپلائی میں بہتری سمیت دیگر اقدامات کی وجہ سے مہنگائی میں کمی کا رجحان دیکھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر میں کمی کے کابینہ کے فیصلوں اور یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے اشیائے خورونوش پر سبسڈی کے نمایاں ہوتےثمرات باعث مسرت ہیں، ہم مہنگائی میں کمی اورعوام کابوجھ ہلکا کرنے کیلئے اقدامات اٹھانےکا سلسلہ جاری رکھیں گے'۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں، بالخصوص سبزیوں اور پھلوں کی قیمت دیہی علاقوں میں شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

دیہی علاقوں میں کھانا پکانے کے لیے استعمال ہونے والا ایل پی جی سیلنڈر کی قیمت 2013 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔

شہری علاقوں میں اشیائے خوردو نوش میں سال کے حساب سے مہنگائی 15.5 فیصد رہی جبکہ ماہانہ بنیاد پر یہ 1.4 فیصد کم ہوئی جبکہ دیہی علاقوں میں یہ بالترتیب 19.7 فیصد اور 1.6 فیصد رہی۔

اس سے صاف واضح رہے کہ غذائی اجناس میں مہنگائی دیہی علاقوں میں زیادہ رہی جہاں ملک کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

اس کی ایک وجہ افغانستان اور ایران سے اپنی درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لئے سبزیوں اور پھلوں پر باقاعدہ ڈیوٹیز عائد کرنا ہے اور مقامی طور پر تیار ہونے والے پھل اور سبزیاں شہری بازاروں میں زیادہ قیمتوں کی وجہ سے فروخت کیا جانا ہے۔

شہری علاقوں میں ، کھانے کی اشیاء میں جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے ان میں شامل ہیں: ویجیٹیبل گھی(13.5 فیصد)، کھانا پکانے کا تیل (10.27 فیصد)، چینی (8.45 فیصد)، سرسوں کا تیل (4.25 فیصد)، تازہ پھل (4.16 فیصد)، پھلیاں (3.89 فیصد)، چکن (2.35 فیصد)، مونگ کی دال (2.27 فیصد) اور ماش کی دال (1.14 فیصد)۔

جن اشیاء کی قیمتوں میں شہری علاقوں میں کمی واقع ہوئی ہے ان میں شامل ہیں: ٹماٹر (60.27 فیصد)، انڈے (26.36 فیصد)، آلو (12.91 فیصد)، تازہ سبزیاں (11.48 فیصد)، پیاز (8.79 فیصد)، گندم کا آٹا (5.29 فیصد)، گندم (3.52 فیصد)، دال (2.34 فیصد) اور بیسن (2.33 فیصد)۔

دیہی علاقوں میں کھانے کی اشیا میں جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے ان میں شامل ہیں: چینی (8 فیصد)، سبزی گھی (6.23 فیصد)، مصالحہ جات اور مصالحہ (5.99 فیصد)، مرغی (5.76 فیصد)، ماش کی دال (5.13 فیصد)، مسور کی دال (4.27 فیصد)، مونگ کی دال (3.94 فیصد) ، تازہ پھل (3.56 فیصد) ، پھلیاں (2.99 فیصد)، کھانا پکانے کا تیل (2.54 فیصد) اور سرسوں کا تیل (1.63 فیصد)۔

مارچ میں پنجاب میں فصلوں بالخصوص سبزیوں کی آمد کے ساتھ پیش گوئی کی جارہی ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوگی۔ مارچ میں ٹماٹر، پیاز، آلو اور دیگر سبزیوں کی قیمتیں کم ہوں گی۔

اسی طرح ، شہری مراکز میں غیر غذائی اجناس پر مہنگائی کی شرح سال بہ سال 9.1 فیصدریکارڈ کی گئی جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 0.9 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

دیہی علاقوں میں غیر غذائی افراط زر کی شرح سال بہ سال 9.8 فیصد تھی اور ماہانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔ غیر خوراکی مہنگائی میں معمولی کمی بنیادی طور پر پچھلے چند مہینوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہوئی۔

مارچ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے غیر خوراک مہنگائی میں مزید کمی واقع ہوگی۔ جولائی 2019 اور فروری 2020 کے درمیان اوسط مہنگائی 11.7 فیصد پر رہا جو گذشتہ سال کے اسی مہینوں کے میں 6 فیصد تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: