دنیابھرسے

آئی اے ای اے کا ایرانی جوہری تنصیبات کا جائزہ

Share

اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی (آئی اے ای اے) نے ایران کی جانب سے سابقہ خفیہ جوہری تنصبیات تک رسائی کی اجازت کے بعد دوسرے مقام کا جائزہ لیا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد دوسرے جوہری مقام کا بھی جائزہ لیا گیا۔

آئی اے ای اے نے مذکورہ مقام کا نام نہیں بتایا لیکن یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ 2003 میں مشکوک سرگرمیاں ہو رہی تھیں تاہم اب آئی اے ای اے اور امریکی خفیہ ایجنسیوں کو یقین ہے کہ ایران نے خفیہ جوہری سرگرمیوں کو ختم کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے بیان میں کہا کہ ‘ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی کے معاہدے کے مطابق رواں ہفتے دوسرے مقام کا جائزہ لیا گیا اور ماحولیاتی نمونے لیے گئے’۔‎

بیان میں کہا گیا کہ یہ نمونے اور گزشتہ جائزے کے نمونے بھی لیبارٹری بھیج دیے جائیں گے اورجوہری مواد کا سراغ لگایا جائے گا جو آئی اے ای اے کا بنیادی کام ہے اور یقینی بنانا ہے کہ یہ مواد اسلحہ کے تیاری میں استعمال نہ ہو۔

خیال رہے کہ ایران، جوہری ہتھیار بنانے کے بیانات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

ایران کی اٹامک انرجی ایجنسی کے ترجمان بہروز کمال واندی نے آئی اے ای اے کے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ ایجنسی اس معاملے پر امریکا کو الزامات سے روکے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آئی اے ای اے کے ساتھ اختلافات تھے اور اس اختلاف کی وجہ سے سیاسی دباؤ بڑھ رہا تھا، امریکا جیسا ملک اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہا تھا۔

بہروز کمال واندی نے کہا کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے رضاکارانہ طور پر ایجنسی کو ایک فریم ورک کے تحت مذکورہ دو مقامات سمیت تمام تنصیبات کی انسپکشن کی اجازت دینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ توقع ہے اس اقدام سے ایران کے معاملے پر سیاست کرنے اور ایران کو سلامتی کونسل میں لے کر جانے کے لیے آئی اے ای اے پر دباؤ ڈالنے والے امریکا اور دیگر ممالک کو روکا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں برس اگست میں ایران نے اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ ایک ماہ کی کش مکش کے بعد 2 سابقہ خفیہ ایٹمی تنصیبات تک رسائی دینے پر اتفاق کرلیا تھا۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے تہران کا دورہ کیا تھا اور اسی دوران اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ طے ہوا تھا۔

رافیل گروسی اور ایرانی جوہری ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ‘ایران رضاکارانہ طور پر آئی اے ای اے کو ان کی جانب سے بتائے گئے 2 مقامات تک رسائی دے گا’۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘آئی اے ای اے کو رسائی دینے کے لیے تاریخوں اور مصدقہ سرگرمیوں پر اتفاق کرلیا گیا ہے’۔

آئی اے ای اے نے واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ بدلے میں ایران سے اس سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔

اس سے قبل آئی اے ای اے نے تہران اور اصفہان میں تنصیبات تک رسائی کی مہینوں تک کوشش کی تھی، جس کے بارے میں ایران پر الزام تھا کہ وہاں غیر اعلانیہ جوہری مواد رکھا ہوا ہے ج ہتھیار بنانے میں استعمال ہو رہا ہے۔

رواں برس جون میں آئی اے ای اے نے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے قرارداد منظور کیے جانے کے بعد ایران پر دباؤ میں اضافہ کردیا تھا کہ انسپکٹرز کو ان مقامات تک رسائی کا موقع فراہم کیا جائے۔

ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ آئی اے ای اے سے این پی ٹی سیف گارڈز ایگریمنٹ اور اضافی اقدامات پر عمل درآمد کے لیے مکمل تعاون کرے۔

بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں یہ قرارداد فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کی 25 اراکین نے حمایت اور 2 نے مخالفت کی تھی، جبکہ 7 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔

یاد رہے کہ آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے پر دستخط سے کچھ روز قبل ہی ایران کا دورہ کیا تھا۔

ایران کے ساتھ اس معاہدے کو جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) کا نام دیا گیا تھا، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

عالمی طاقتوں سے معاہدے میں ایران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے کام کو جاری نہیں رکھے گا، جس کے جواب میں ان پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔

ایران کو اپنا تیل اور گیس دنیا بھر میں کسی بھی ملک کو برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

بعد ازاں جب امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوئے تو 2018 میں انہوں نے ایران سے معاہدہ ختم کرنے کا یکطرفہ اعلان کیا اور ایران پر معاشی پابندیاں بحال کردی تھیں۔

امریکی اقدامات کے بعد ایران کو معاشی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا جبکہ اس نے جوہری سرگرمیوں کو بھی بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔