طالبان اور ہماری حکمتِ عملی

نجم سیٹھیNajam Sethi

اسلام آباد کی خاموش فضا میں گھونجنے والے دھرنوں کے شور میں وزیرستان کی پریشان کن سرزمین سے آنے والی ایک اہم خبر کونظر انداز کردیا گیا۔ یہ پنجابی طالبان کے لیڈر عصمت اﷲ معاویہ کا بیان تھا جس میں اُس نے ریاستِ پاکستان کے خلاف جنگ و جدل موقوف کرتے ہوئے ، حقانی نیٹ ورک کی معیت اور ملا عمر کی قیادت میں اپنی تمام تر عسکری توجہ کابل پر مرکوز کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پنجاب اور آزاد جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والے جہادی گروہوں سے الگ ہوکر ہجرت کرکے وزیرستان میں اپنے ٹھکانے قائم کرنے والے جنگجو وں کے دستے پنجابی طالبان کہلاتے ہیں۔ انھوں نے پاک فوج کے خلاف اُس وقت مسلح بغاوت شروع کردی جب پرویز مشرف نے 2003-04 میں کشمیر میں ہونے والی جہادی سرگرمیوں کو بند کردیا۔اگر معاویہ واقعی ان گروہوں کی قیادت کررہا ہے اور اُس کا وہی مطلب ہے جو وہ کہہ رہا ہے تو پھر اسے واقعی پاکستانی کی ملٹری اسٹبلشمنٹ کی ایک بہت زیرک چال قرار دیا جاسکتا ہے۔
پاکستانی پشتون طالبان ، جو سوات، فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں ریاستِ پاکستان پر حملوں میں ملوث رہے ہیں، کے برعکس پنجابی طالبان کسی نہ کسی بہانے سے پاک فوج کی تینوں سروسز، خاص طور پر آرمی اور نیوی، میں سرائیت کرچکے ہیں۔ اِنھوں نے پاکستان کی دفاعی تنصیبات پرمتعدد حملے کیے ہیں۔ پنجابی طالبان کے پاکستان میں فرقہ وارانہ گروہوں سے روابط ہیں اور خدشہ ہے کہ ان کی مدد سے عراق اور شام میں پروان چڑھنے والی داعش کے خوفناک سائے پاکستان کی سرزمین میں بھی پھیلتے جارہے ہیں۔ اب اگر معاویہ کے اعلان کے مطابق ان کی بندوقوں کا رخ کابل کی طرف ہوچکا ہے تو پاک فوج کو موقع مل جائے گا کہ وہ ضربِ عصب اپریشن کے دوران قبائلی علاقوں میں موجود دیگر گروہوں کا صفایا کرسکے۔
افغان طالبان کی ہمراہی میں پاکستانی طالبان کا افغانستان کی سرزمین پر جاکر کابل کے خلاف مسلح کاروائیاں کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا خدشہ کئی سال پہلے سے تھا لیکن امریکی ڈرونز نے پنجابی طالبان کو اس لیے نشانہ بنانے سے گریز کیا تھا تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ریاستِ پاکستان سے توجہ ہٹا کر کابل کے خلاف لڑنے کے لیے افغان طالبان کی صفوں میں شامل ہوجائیں ۔ امریکی اپنے دشمنوں کی تعداد اور قوت میں اضافہ ہر گز نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔تاہم جب پاک فوج نے بلا امتیاز تمام طالبان کو پاکستان کا دشمن قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھرپورکارروائی کا آغاز کیا تو امریکہ بھی پاکستان کا ساتھ دینے پر راضی ہوگیا۔ ا س نے ڈرونز حملوں میں پنجابی طالبان کی قیادت کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکی اور پاک آرمی کے مشترکہ اپریشن کی کامیابی کو معاویہ کا بیان دھندلا سکتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دشمنی اور بداعتمادی کی فضا مزید گہری ہوگی۔
ان حالات میں اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ کابل نے الزام تراشی کا سلسلہ پھر شروع کردیا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں کابل کے خلاف پاکستانی طالبان کو صف آراء کررہی ہیں۔اس موقع پر عصمت اﷲ معاویہ کا بیان ’’سرحدپار سے افغانستان کے معاملات میں سنگین مداخلت ‘‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ صورتِ حال کی سنگینی کم کرنے کے لیے پاکستان کے دفترِ خارجہ کی طرف سے فوری طور پر بیان جاری کیا گیا ...’’دھشت گردی کے خطرے کا مقابلہ باہمی تعاون سے ہی کیا جاسکتا ہے۔‘‘ گویا افغانستان بھی پاکستان کی طرح انتہاپسندوں کے خلاف اپنی سرحد میں کارروائیاں کرے۔دراصل افغان سرزمین پر پناہ لینے والے پاکستانی طالبان کے پاک فوج پر حملے ہمارے لیے اتنے ہی پریشان کن ہیں جتنے افغانستان کے لیے فاٹا میں پناہ لینے والے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے حملے... یہ حملے کم و بیش ایک دہائی سے جاری ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کا لیڈر مولانا فضل اﷲ نہ صرف افغانستان میں مقیم رہ کر پاکستان میں کارروائیاں کرتا ہے بلکہ اُسے ان مقاصد کے لیے کابل کی عملی معاونت اور پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ گزشتہ ہفتے افغانستان میں مقیم تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگجووں نے ڈھانڈی کچھ (Dandi Kuch) ،شمالی وزیرستان، میں موجود چوکی پر حملہ کرکے ایف سی کے تین جوانوں کو شہید کردیا۔ اب یہ پیمانہ ایک سنگین حقیقت کی طرح واضح ہے کہ جس طرح پاکستان نے کئی عشروں تک افغان طالبان کو اپنے ہاں پناہ دی اور وہ یہاں موجود محفوظ ٹھکانوں سے نکل کر افغانستان میں حملے کرتے رہے، اُسی طرح کابل تحریکِ طالبان پاکستان کے ان جنگجووں کو محفوظ ٹھکانے پیش کررہا ہے جو ضربِ عصب میں ہونے والے نقصان سے بچنے کے لیے سرحد پار کررہے ہیں۔
اس پسِ منظر میں معاویہ کے بیان کی دہری اہمیت ہے۔ اس میں کابل کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے مفرور جنگجووں کو پناہ دینے سے باز رہے۔ یہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی کابل کے لیے دھمکی ہے کہ اگر وہ ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کا تعاون چاہتا ہے وہ پھر وہ بھی تعاون کے لیے خود کو آمادہ کرے۔ اس تجزیے کے بعد بھی بہت سے سوالات باقی ہیں۔ کیا کابل اسلام آباد کے ساتھ تعاون پر آمادگی دکھائے گا یا پھر اس کا رویہ مزید جارحانہ ہوجائے گا۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ پر کہ کابل کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے پاک فوج کرم ایجنسی میں موجود افغان طالبان پر کس حد تک دباؤڈالتی ہے؟جب پاکستان کا افغانستان سے کوئی تصفیہ ہوجاتا ہے تو پاک فوج پنجابی طالبان کے ساتھ کیا کرتی ہے؟اس پیش رفت کا پاک امریکہ تعلقات پر کیا اثر پڑتاہے؟ یہ تمام صورتِ حال پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پر کیا اثرات مرتب کرے گی کیونکہ معاویہ کا تعلق ماضی میں لشکرِ جھنگووی سے رہا ہے۔ اس لیے سنگین خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کرکہ اگر پاک فوج ابھی تک حقانی نیٹ ورک اور پنجابی طالبان کے ادغام کو اپنے اثاثے سمجھتی ہے تو پھر ڈیورنڈ لائن کے آرپار جاری کاروائیاں کس طرح رکنے میں آئیں گی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *