فخر الدین جی ابراہیم: سابق اٹارنی جنرل اور گورنر سندھ عدم تشدد کے فلسفے سے خاصے متاثر تھے

پاکستان کے نامور قانون دان، سابق گورنر سندھ اور سابق چیف الیکشن کمشنر، ریٹائرڈ جسٹس فخر الدین جی ابراہیم انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 91 برس تھی۔

وہ گذشتہ چند سالوں سے علیل تھے اور منگل کی شام ان کے خاندان نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ ان کی نمازِ جنازہ میوہ شاہ قبرستان میں ادا کی گئی۔

بوہرہ برادری سے تعلق رکھنے والے فخر الدین جی ابراہیم کی پیدائش 1928 میں انڈین ریاست گجرات میں ہوئی جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔

وہ مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے سے کافی متاثر تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ وہ گاندھی کے درس سننے جایا کرتے تھے۔

فخر الدین جی ابراہیم نے بمبئی میں قانونی فرم قائم کی اور 1950 میں پاکستان منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے کراچی میں سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔

اس کے بعد وہ ایک دہائی تک وکالت کے شعبے سے منسلک رہے۔

فخرالدین جی ابراہیم، پاکستان
فخر الدین جی ابراہیم بطور چیئرمین ڈوپنگ اپیل بورڈ 5 دسمبر 2006 کو پاکستانی فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف پر پابندی کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں

فخرالدین جی ابراہیم کہتے تھے کہ ’جب میں واپس آیا تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں۔ میں نے سوچا کہ میں فارن سروس میں جا کر تدریس کا کام کروں گا لیکن حادثاتی طور پر سندھ مسلم کالج میں پڑھانا شروع کردیا۔‘

بعد میں وہ عدلیہ میں چلے گئے۔ 1981 میں جب سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج تھے، تب جنرل ضیاالحق کا عبوری آئین حکم کے تحت دوبارہ حلف لینے کا حکم نامہ آیا۔ اس موقع پر جسٹس دراب پٹیل کے ہمراہ انھوں نے بھی انکار کیا اور دوبارہ وکالت کے پیشے کی طرف آگئے۔

انھوں نے پوری زندگی جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔ بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں انھیں سندھ کا گورنر تعینات کیا گیا، جب بینظیر بھٹو کی حکومت کو تحلیل کردیا گیا تو انھوں نے استعفٰی دے دیا۔ اس کے بعد وہ وکالت کی پریکٹس کرتے رہے۔

بینظیر بھٹو جب دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں تو فخرالدین جی ابراہیم کو اکتوبر 1993 میں اٹارنی جنرل پاکستان بنایا گیا۔ لیکن اس عہدے پر فائز ہونے کے چند ماہ بعد جب وہ کراچی آئے ہوئے تھے تو ان کے علم میں آیا کہ حکومت نے یہ عہدہ شریف الدین پیرزادہ کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر اختلاف کرتے ہوئے وہ مستعفی ہوگئے۔

فخرالدین جی ابراہیم صدر فاروق لغاری کے دور میں نگران وفاقی وزیر قانون بھی رہے۔ وہ اسے اپنی غلطی قرار دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا ’میں اس کو غلطی اس لیے کہتا ہوں کہ وہ 58 (2b) کی حکومت تھی۔‘

بوہرہ کمیونٹی کے بعض لوگوں کو شکوہ ہے کہ انہوں نے کمیونٹی کے لیے کوئی غیر معمولی خدمات سرانجام نہ دیں تاہم انھوں نے کراچی میں شہریوں کے ساتھ تعاون کے لیے بنائے گئے ادارے سٹیزن پولیس لیزان کمیٹی (سی پی ایل سی) کی تشکیل میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

فخرالدین جی ابراہیم، پاکستان، افتخار چوہدری
جب جنرل مشرف نے سنہ 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹایا تو جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے نہ صرف حکومت کی پیروی سے انکار کیا بلکہ وکلا تحریک میں کردار بھی ادا کیا

جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی سوگواران میں چھوڑے ہیں۔ ان کے بیٹے زاہد فخر الدین جی ابراہیم ایڈیشنل اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں اور جب حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کیا تو وہ بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔

جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کو 2012 میں چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا اور 2013 کے انتخابات ان کی زیر نگرانی کروائے گئے تھے۔ وہ تمام ہی سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول شخصیت تھے لیکن تحریک انصاف نے ان نتائج کو قبول کرنے سے انکار کیا اور دھرنوں کی سیاست کا آغاز کیا۔

ان انتخابات کے بعد وہ یہ شکوہ کرتے ہوئے مستعفی ہوگئے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اصرار پر انھوں نے یہ منصب قبول کیا۔

ان انتخابات کے دوران فخر الدین جی ابراہیم کا ایک بیان بھی متنازع بنا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بیلٹ پیپر پر ’مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں‘ کا خانہ بھی ہونا چاہیے۔

انھیں جاننے والے زیادہ تر ’فخرو بھائی‘ کہہ کر مخاطب ہوتے اور وہ ’ڈِکرا‘ کہہ کر نوجوانوں کو جواب دیا کرتے تھے۔ ضعیف العمری کے باوجود وہ وکلا تحریک میں سرگرم نظر آئے۔

سنہ 2007 میں جب سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معزول کیا تو احتجاجی جلوسوں میں وہ اکثر نظر آتے اور جنرل ضیاالحق کے دور میں انھوں نے جب پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا تھا، اس کا تسلسل یاد دلاتے۔

فخرالدین جی ابراہیم، پاکستان
فخرالدین جی ابراہیم 24 مارچ 2013 کو اپنے دفتر میں بطور چیف الیکشن کمشنر نگراں وزیرِ اعظم کے نام کا اعلان کر رہے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 1995 میں قومی ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کے خلاف تحقیقات کے لیے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پر مشتمل کمیشن بنایا تھا۔ سلیم ملک پر الزام تھا کہ انھوں نے مبینہ طور پر آسٹریلوی کرکٹرز مارک وا، شین وارن اور ٹم مے کو میچ فکسنگ کی پیشکش کی تھی۔

آسٹریلوی کرکٹرز اس کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوئے، چنانچہ جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے سلیم ملک کو عدم ثبوت پر میچ فکسنگ کے الزام سے بری کردیا تھا۔

جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کا پاکستان کرکٹ بورڈ سے دوسری مرتبہ تعلق اس وقت قائم ہوا جب انھیں 2006 میں فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف کے ڈوپنگ میں ملوث ہونے کے معاملے میں قائم کی گئی اینٹی ڈوپنگ اپیل کمیٹی کا سربراہ بنایا گیا۔

اس کمیٹی نے بھی دونوں فاسٹ بولرز کو ڈوپنگ کے الزام سے بری کر دیا تھا۔