ڈاکٹر صفدر محمود کے نام کھلا خط!

writerموبائل:0333-4332920
لاہور
20فروری2015ء
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب!
السلام علیکم!
13جنوری2015ء ۔ میں نے ایک خط ارسال کیاجو آ پ کے 12دسمبر2014ء کے کالم مطبوعہ روزنامہ جنگ لاہور، ’’لمحوں کی غلطیاں اور صدیوں کی سزا‘‘ سے متعلق تھا۔ 31جنوری2015ء۔ آپ کا فون آیا جس میں خط وصولی میں تاخیر کا بھی ذکر تھا۔ دراصل آپ کے کالم کے ساتھ شائع ای میل ایڈریس پر آپ کو یہ خط بھیج دیا گیا تھا۔ سپرد ڈاک ہم نے کئی روز بعد کیا۔ لگتا ہے ای میل والا خط آپ کو نہیں ملاتھا، بہرحال۔
31جنوری2015ء۔ آپ نے فون پر ایک تو یہ انکشاف کیا کہ قیام پاکستان پر حسین شہید سہروردی نے بھارتی شہریت اختیار کر لی تھی جس باعث ان کی پاکستان دستور ساز اسمبلی کی رکنیت ختم ہو گئی تھی۔ دوسرے، سہروردی صاحب 1949ء میں پاکستان آئے اور دستورساز اسمبلی کے لیے الیکشن لڑکے ممبر منتخب ہوئے۔
حقائق آپ کے اس موقف یا معلومات کی نفی کرتے ہیں۔ مثلاً :۔
پاکستان دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 10اگست1947ء بروز اتوار کراچی میں ہوا۔ اس میں صدر (سپیکر)ا سمبلی کے لیے جوگندرناتھ منڈل کو منتخب کیا گیا۔ اس اجلاس میں موجود ارکان اسمبلی نے فرداً فرداً اپنی اسناد (Credentials) پیش کیں اور اسمبلی رجسٹر پر دستخط کیے۔ ان 53ارکان اسمبلی میں حسین شہید سہروردی بھی تھے۔ ثبوت کے لئے میں نے پاکستان دستور ساز اسمبلی کے اس اجلاس کی سرکاری رپورٹ کے صفحات ایک سے چار تک اس لیٹر کے ساتھ منسلک کر دئیے ہیں۔ ان حاضر ارکان میں پانچواں نام حسین شہید سہروردی مرحوم کا ہے۔
یہ دستاویزی ثبوت شاہد ہے کہ حسین شہید سہروردی نے پاکستان کی بجائے بھارتی شہریت اختیار نہ کی تھی، اور نہ ان کی اسمبلی رکنیت ختم ہوئی تھی۔
سہروردی صاحبؒ قیام پاکستان کے بعد کلکتہ میں رکے ضرور تھے، لیکن انہوں نے بھارتی شہریت اختیار نہ کی تھی۔ ہندو مسلم فسادات روکنے کے لئے انہوں نے وہاں عارضی قیام کیا تھا۔ اس مقصد کے لئے گاندھی کے ساتھ مغربی بنگال کا دورہ بھی کیا۔ ان کے وہاں رکنے سے یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ اس دوران میں وہ پاکستان آ ، جا نہیں سکتے تھے۔ بہرحال، دسمبر1947ء میں وہ باقاعدہ پاکستان آ گئے، جس کی دستور ساز اسمبلی کے وہ ایک رکن تھے، اور جس کے اولین اجلاس میں انہوں نے شرکت کی تھی ۔ اسی اسمبلی میں وہ 1949ء سے 1954ء تک اپوزیشن لیڈر رہے۔
اسمبلی ریکارڈ کے علاوہ بھی کئی واقعات ، ڈاکٹر صاحب! آپ کے موقف کی تردید کرتے ہیں۔ صرف دو بیان کر رہا ہوں:
(1) قیام پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان (تب مشرقی بنگال) میں وزارت علیا کے لئے حسین شہید سہروردیؒ اور خواجہ ناظم الدینؒ امیدوار تھے۔ چودہری محمد علی لکھتے ہیں: ’’سہروردی نے قائداعظم ؒ کو تجویز دی کہ وہ دونوں میں سے ایک کو مرکزی کابینہ میں لے لیں۔ اس طرح دوسرا بلا مقابلہ وزیرا علیٰ منتخب ہو جائے گا ‘‘۔ قائداعظم ؒ نے اس پر فیصلہ دیا : ’’اپنا لیڈر منتخب کرنے کے لیے ارکان اسمبلی کو اپنا جمہوری حق استعمال کرنے دیں ۔‘‘ (ایمرجنس آف پاکستان۔ چودہری محمد علی۔ ص:250) ۔
(2) سہروردی مرحوم اپنی یادداشتوں میں قائداعظم ؒ کی طرف سے کی گئی بعض پیش کشوں کے ذکر میں کہتے ہیں: ’’اپنی سابقہ پیش کش کے علاوہ انہوں نے مجھے ازراہ عنایت یکے بعد دیگرے وزارت مہاجرین، اقوام متحدہ میں مستقل نمائندگی، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سفارت، حتیٰ کہ وزارت دفاع تک کی پیش کش کی۔ میں ہر پیش کش قبول کرنے سے اس لیے گریزاں رہا کہ مجھے احساس تھا کہ میرافوری مشن پاکستان اور ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش تھا۔‘‘ ( حوالہ: میمائرز آف حسین شہید سہروردی۔ ص :109۔ مرتب: محمد ایچ آر تعلقدار 2009ء۔ آکسفورڈ) ۔
اگر حسین شہید سہروردی مرحوم نے پاکستان کی بجائے بھارتی شہریت اختیار کر لی تھی اور وہ 1949ء میں پاکستان آئے تھے، تو پھر وہ مشرقی بنگال میں وزارت علیا کے لیے امیدوار کس طرح بن گئے۔ اور قائداعظم ؒ انہیں ’’یکے بعد دیگرے وزارت مہاجرین ، اقوام متحدہ میں مستقل نمائندگی، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سفارت، حتیٰ کہ وزارت دفاع تک کی پیش کش ‘‘کس کھاتے میں کرتے رہے۔
سہروردی صاحبؒ کی پاکستانی شہریت اور شروع دن سے پاکستان دستور ساز اسمبلی کی رکنیت کا سب سے بڑا اور ٹھوس ثبوت اسمبلی ریکارڈ ہے، جس کے ایک تا چار صفحات کی فوٹو کاپی اس خط کے ساتھ منسلک ہیں۔
مزید برآں :
ڈاکٹر صاحب!31جنوری2015ء والی ٹیلی فونک گفتگو میں آپ نے گلہ کیا تھا کہ میں نے ’’نوائے وقت‘‘ میں آپ کا مضمون پڑھے بغیر جواب لکھ دیا تھا ۔ ’’قائداعظم اور مولانا اشرف علی تھانوی‘‘ کے عنوان سے آپ کا مضمون تین اقساط میں 24تا26دسمبر2012ء کو چھپا تھا۔ میرا جواب ’’قائداعظمؒ اور مولانا اشرف علی تھانوی ۔ اصل حقیقت‘‘ 29و 30 جنوری2013ء کو دو قطسوں میں شائع ہوا۔ اگرچہ میرا جواب انہوں نے ایڈٹ کرکے چھاپا ، پھر بھی یہ تاثر بالکل نہیں ابھرتا کہ میں نے آپ کی اقساط پڑھے بغیر جواب لکھ دیا تھا ۔تاہم میں آپ کی تینوں مطبوعہ قسطوں اور اپنے مکمل جواب کی فوٹو کاپیاں اس لیٹر کے ساتھ منسلک بھیج رہا ہوں۔ ایک بار پھر پڑھیں۔ فیصلہ کریں ۔واقعی میں نے آپ کا مضمون پڑھے بغیر جواب لکھ دیا تھا یا بہ غور مطالعہ کرنے کے بعد!
ڈاکٹر صاحب! آپ ہمارے بزرگ ہیں۔ اس گئے گزرے دور میں قائداعظم ؒ کے حوالے سے اپنے قارئین کو کچھ نہ کچھ دیتے رہتے ہیں، غصہ نہ کیا کریں۔ اس روز آپ کا لہجہ قدرے ناراضی کی چغلی کھا رہا تھا۔ غلطی کی نشاندہی پر خوش اور ممنون ہونا چاہیے نہ کہ ناراض اور سیخ پا !

فقط
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب منیر احمد منیر
N 74 ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی۔ فیزI
لاہور کینٹ ۔
منسلک کاغذات :
(1) پاکستان دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس ، 10اگست 1947۔ صفحات 1تا4
(2) مضمون : ’’قائداعظم اور مولانا اشرف علی تھانوی ‘‘ ۔ تحریر : ڈاکٹر صفدر محمود۔ مطبوعہ :روزنامہ نوائے وقت لاہور 24تا26دسمبر2012ء ۔
تین صفحات ۔ فوٹو کاپی
(3) جوابی مضمون: ’’قائداعظم ؒ اور مولانا اشرف علی تھانوی ۔اصل حقیقت ‘‘ ۔ تحریر: منیر احمد منیر ۔ 5صفحات

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *