فیچرز

ٹرین سے باہر برف پر پھینکی گئی پالتو بِلّی جسے تلاش کرنے ہزاروں رضا کار نکلے لیکن۔۔۔

Share

روس میں ایک ٹرین کنڈکٹر نے ایک پالتو بلی کی ٹرین سے باہر شدید سردی کے موسم میں نکال دیا اور بعد میں یہ بلی مر گئی۔ اس واقع پر روس کی آرزی ایچ ڈی (RZhD) سرکاری ریل کمپنی نے بلی کے مالکان سے واقعے پر معزرت بھی کی ہے۔

کمپنی نے اپنے قوائد کو تبدیل کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا ’ ہمیں بہت افسوس ہے کہ بلی ٹوکس مر گئی۔‘

مرنے والی بلی کا نام ٹوکس تھا۔

اس سے پہلے واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ11 جنوری کو روس کے شہری کیروف میں ایک سفید اور سرخی مائل بلی کو ٹرین سے نکال کر برف پر پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کنڈکٹر نے یہ سوچ کر بلی کو ٹرین سے نکال دیا کہ وہ آوارہ ہے پالتو نہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلی اپنے پنجرے سے نکل گئی اور کیرج میں چلتے ہوئے مسافروں کو نظر آ گئی۔

جب یہ واقعہ منظر عام پر آیا تو سینکڑوں رضاکاروں نے کیروف کے ریلوے سٹیشن کے علاقے میں بلی کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

آخر کار سنیچر کو بلی کی لاش ملی اور بعد میں بلی کے مالکوں نے اس کی شناخت کی۔

کچھ رپورٹس کے مطابق ٹوکس جانور کے کاٹنے اور فراسٹ بائٹ (سخت سردی کی وجہ سے جسم کو ہونے والے نقصانات) کی وجہ سے ہلاک ہوئی۔

روس کے کئی علاقوں میں اس وقت شدید سردی کا موسم ہے اور کیروف میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔

70 ہزار سے زیادہ لوگوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس خاتون کنڈکٹر کے خلاف فوجداری تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مقامی انتظامیہ کا کنڈکٹر کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اس پیٹیشن کا آغاز ہوا۔

ایک اور پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ خاتون کنڈکٹر کو نوکری سے فارغ کیا جائے۔ دو لاکھ لوگوں نے اس پٹیشن پر دستخت کیے ہیں۔ خاتون کنڈکٹر کی شناخت عوامی سطح پر ابھی بھی ظاہر نہیں کی گئی۔

ٹوکس کے مالکان میں سے ایک نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ وہ عدالت کے ذریعے اس معاملے پر مزید کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایک خصوصی سوشل میڈیا چینل کے ذریعے پورے روس سے ہزاروں لوگ اس واقعے سے متعلق خبروں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

جب بلی کی موت کی خبر کی تصدیق ہوئی تو ایک صارف نے بلی کی ایک پینٹنگ پوسٹ کی جس میں اس کے پر بھی ہیں۔

ہفتے کو ٹرین کمپنی نے کہا کہ وہ ایسے قوائد پر عمل درآمد کروا رہے ہیں جو کمپنی کے کنڈکٹرز کو جانوروں کو ٹرین سے اتارنے سے روکتے ہیں۔

کمپنی نے مزید کہا کہ جانوروں کو ٹرین سے نکالنے کے بجائے انھیں ریلوے سٹیشن پر موجود عملے کے حوالے کیا جائے گا جو جانوروں کے تحفظ والی تنظیم کے نمائندوں کو بلائیں گے۔

سرکاری ریل کمپنی کو اس واقعے نے مجبور کر دیا کہ وہ اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے جواب میں سوشل میڈیا پر بیان دیں کہ ان کے ملازمین ’جانوروں کے ساتھ بڑی توجہ اور محبت سے پیش آتے ہیں، اور سفر میں ہر ممکن طریقے سے ان کا خیال رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ بلی کو ڈھونڈنے میں ان کے ملازمین نے بھی حصہ لیا اور مزید کہا کہ اس کا ایک ذیلی ادارہ روس بھر میں آوارہ جانوروں کی مدد کرنے والی تنظیموں کے ساتھ طویل مدتی روابط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔