سائبرسپیس میں جہاد اور جاسوسی

Irfan Hussainعرفان حسین

اپنے ابتدائی دو ر سے ہی انٹر نیٹ کو ایک ایسے نظام کے طور پر دیکھا گیا جہاں معلومات کے بہاؤ اور پیغامات کے تبادلے کو کوئی حکومت چیک کرسکے اور نہ ہی انہیں سنسر کرنا ممکن ہو، لیکن یہ تب کی بات ہے۔ آج ہم سائبر جاسوسی کی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ آج ریاستوں کو شدت سے احساس ہورہا ہے کہ ای میل، ٹوئیٹر اور فیس بک کے ذریعے ان کی سرحدوں میں انتشار پھیلانے والے پیغامات بھیجے جارہے ہیں۔ چنانچہ بہت سی حکومتیں شورش پسندی کی حامل ایسی معلومات کے تبادلے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور بہت سے کیسز میں ایسے پیغامات کو بلاک بھی کردیا جاتا ہے۔
ہم پاکستان میں بھی نہایت احمقانہ طریقے سے سائبر سپیس میں ہونے والی پیغام رسانی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ زرداری حکومت میں ٹوئیٹر اور ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجے جانے والے ایسے پیغامات کو بلاک کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی جن میں ’’مردِ اول ‘‘ اور کچھ اہم ریاستی اداروں کا مذاق اُڑایا گیا ہو۔ جب سائبر سپیس کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکامی سے ہمکنار ہوئی تو پھر ایسے سافٹ وئیر اور ھارڈ وئیر حاصل کرنے کی سعی کی گئی جو ناپسندیدہ ویب سائٹس اور ای میلز کو بلاک کرسکیں۔ اس ضمن میں حکومت کا پہلاکلہاڑا یوٹیوب پر چلا اور بیک جنبشِ قلم پاکستانیوں کویوٹیوب پر موجود اربوں ویڈیوز سے استفادہ کرنے سے روک دیاگیا۔چونکہ حکومت کے پاس ایسی مہارت اور ٹیکنالوجی نہیں تھی جس سے وہ صرف توہین آمیز مواد پر مبنی پیج کو بلا ک کرتی، اس نے تمام یو ٹیوب کو بند کردیا... تاحال یہ پابندی برقرار ہے اورا س کی وجہ سے پاکستانی انٹر نیٹ صارفین ، جن کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، کو کرب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مشکلات میں گھرے ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اراگان نے بھی ٹوئیٹر پر پابندی لگاتے ہوئے لاکھوں ترک باشندوں کو ناراض کر دیا ۔ چونکہ ترک رہنماکو بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا تھا اور یہ الزامات سوشل میڈیا، جیسا کہ فیس بک اور ٹوئیٹر کے ذریعے برق رفتاری سے عوام میں پھیل رہے تھے، اس لیے اراگان نے ’’قاصد ‘‘ کو ہلاک کرنے کا قصد کیا، لیکن ایسا کرتے ہوئے اُنھوں نے گویا اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑا مار لیا۔ اس کی وجہ یہ کہ انٹر نیٹ کو جاننے والے افراد ، جوسوشل میڈیا کو استعمال کرنا چاہیں تو وہ اُنہیں بلاک کرنے کی سرکاری کوششوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ اس لیے ترکی ، ایران اور پاکستان کے انٹر نیٹ صارفین بڑی آسانی سے یوٹیوب یا سوشل میڈیا کو کھول سکتے ہیں۔ اصل مسلۂ ایسی پابندیوں کا نہیں بلکہ ریاستوں کی طرف سے سائبر ٹریفک کی جاسوسی کرنے کا ہے... جیسا کہ ایڈورڈ سنوڈن کے دلیرانہ اعتراف سے ظاہرہوا کہ این ایس اے (نیشنل سیکورٹی ایجنسی )خفیہ پروگرام کے ذریعے ہرروز دنیا بھر میں بھیجی گئی کروڑوں ای میلز اور ٹیلی فون کالز کو ریکارڈ کرتی ہے۔ اپنے دفاع میں این ایس اے کا موقف ہے کہ وہ اس metadata کو سٹور تو کرتی ہے لیکن صرف مشکوک گروہ یا افراد، جن پر دھشت گردی کا شبہ ہو، کے پیغامات تک ہی رسائی حاصل کی جاتی ہے۔ این ایس اے یہ مواد اپنے برطانوی ’’ہم منصب ‘‘ GCHQ اور دیگر ایجنسیوں کوبھی فراہم کرتی ہے۔
سنوڈن کے اس انکشاف کے بعد بہت شور مچاکیونکہ حکومتوں کو علم ہوا کہ ان رہنماؤں کی جاسوسی کی جارہی ہے اور ان کی ای میلز اور فون کالز کی پرائیویسی ختم ہوچکی ہے۔ این ایس اے کو اپنا بھانڈا پھوٹنے پر خفگی تو ہوئی لیکن اس نے کہا کہ تمام ممالک ہی جاسوسی کرتے ہیں، اس لیے اسے کسی معذرت خواہی کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس پر سب سے سخت ردِ عمل گوگل، فیس بک اور یاھو کی طرف سے آیا ۔ یہ عظیم فرمیں عدالت کے خفیہ احکامات کی روشنی میں این ایس اے کے ساتھ تعاون کررہی تھیں لیکن سنوڈن کی طرف سے انکشاف کرنے کے بعد انہیں احساس ہو اکہ اُنھون نے اپنے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اب وہ اوباما انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس سلسلے میں کھل کر سامنے آئیں اور بتائیں کہ اُنہیں افراد کے ذاتی مواد سے کیا غرض ہے؟اس ضمن میں وہ کمرشل صارفین ، جو امریکی servers پر اپنا مواد ذخیرہ کرتے ہیں ، اُن کی پریشانی دوچند ہے ۔ ان میں سے بہت سوں نے دیگر غیر ملکی servers استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔ اس سے کچھ فرموں کو اربوں ڈالر کا نقصان، کم از کم کچھ دیر کے لیے، بھی متوقع ہے۔
اگرچہ سنوڈن کے انکشافات پر امریکہ میں تیز وتند بحث کا تبادلہ دیکھنے میں آیالیکن اس کے برعکس برطانیہ میں اس کی وجہ سے کوئی طوفان نہیں اٹھا۔اگرچہ لند ن کے ’’گارڈین ‘‘ جیسے معتبر اخبار نے یہ کہانی شائع کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست کی طرف شہریوں کے ذاتی مواد تک رسائی کے پروگرام میں اصلاح کی ضرورت ہے لیکن کمیرون حکومت نے الزام لگا یا کہ سنوڈن کے انکشافات محض ’’سازش ‘‘ ہیں اور ’’گارڈین ‘‘ نے بطور اخبار ملک کی سیکورٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔ زیادہ تر برطانوی شہری اس بات سے اتفاق کرتے دکھائی دیے کہ جب ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ، تو پھر اُنہیں کسی بات کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستیں ہمیشہ سے ہی شہریوں اور دیگر ریاستوں کی جاسوسی کرتی رہی ہیں۔ 1871 میں جب پیرس کا محاصرہ کیا گیا تو جرمن افواج فرانس کے دارلحکومت سے پرواز کرنے والے ’’مشتبہ ‘‘کبوتروں کو مارگرانے کی کوشش کرتیں مبادا ان کے ذریعے کوئی پیغام بھیجاجارہاہو۔ قدیم زمانے سے ہی حریف گروہوں کے خفیہ کوڈ کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے تاکہ ان کے عزائم سے باخبر رہا جائے۔
دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کی شکست کی ایک وجہ یہ تھی کہ برطانوی ماہرین ان کے پیغامات کے تبادلے کو جاننے کے قابل ہو گئے تھے۔ جرمن کمانڈر یہ سمجھتے ہوئے آپس میں تبادلہ خیالات کرتے کہ ا ن کی لائن محفوظ ہے لیکن برطانوی افواج ان کے خفیہ منصوبوں کو جان لیتیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد جب دنیا پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ القاعدہ اور دیگر جہادی گروہ اپنے منصوبوں کے لیے سائبر سپیس کو استعمال کرنے کے ماہر ہیں تو اُنھوں نے فوری طور پر انٹر نیٹ کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین بنانا شروع کردیے۔ جب میں اپنی کتاب ’’Fatal Faultlines‘‘ کے لیے مواد اکٹھا کررہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ سائبر سپیس پر کس طرح کا جہاد جاری ہے۔ اس کی تفصیل کسی اگلے کالم میں بیان کروں گا۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں reproduction کی اجازت نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *