پاکستان

ارشد شریف کے پوسٹ مارٹم کی اصل رپورٹ نہیں دی گئی، نقل بھی نامکمل، خاندان کا دعویٰ

Share

کینیا میں قتل ہونے والے سینیئر صحافی ارشد شریف کے خاندان کا کہنا ہے کہ اُنھیں کینیا سے میت کے ساتھ جو پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوئی، اس میں کچھ صفحات موجود نہیں تھے۔ 

خاندان کے مطابق اس پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کا مہربند لفافہ جب اُنھیں دیا گیا تو وہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا۔  

خیال رہے کہ مقامی نیوزچنیل دنیا ٹی وی سے منسلک اینکر کامران شاہد نے گذشتہ رات اپنے پروگرام میں تشدد زدہ ہاتھوں اور چھاتی کی تصاویر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ تصاویر ارشد شریف کی ہیں اور یہ کہ ان کے پاس موجود تفصیل کے مطابق ارشد شریف کو قتل کرنے سے پہلے ’بہیمانہ تشدد کا نشانہ‘ بنایا گیا تھا۔

ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی انگلیوں میں فریکچر ہے جبکہ ہاتھ کی پشت پر زخم کے نشان ہیں۔ ان کے سینے پر گولی کا سوراخ بھی واضح ہے۔ ان تصاویر کے حوالے سے ایک فورینزک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ تصاویر ہلاکت کے چار سے پانچ گھنٹوں بعد لی گئی ہیں اور اس دوران تشدد زدہ میت کی انگلیاں مڑنا شروع ہو گئی تھیں۔

تاہم ان تصاویر اور ان سے جڑی خبروں کی تادمِ تحریر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ارشد شریف کے اہلخانہ نے حیرت اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

ارشد شریف کو دو ہفتے قبل یعنی 23 اکتوبر کو کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے مضافاتی علاقے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم پاکستان منتقلی سے قبل کینیا میں بھی پاکستانی سفارتخانے کے عملے کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ اصل دستاویزات ایک مہر بند لفافے میں ان کے ورثا کے حوالے کی جانی تھیں۔

تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کے اہلخانہ نے کہا ہے کہ کینیا سے آنے والے ان دستاویزات میں کاغذات کی نقل تو موجود ہے جبکہ اصلی دستاویزات نہیں ہیں۔ جبکہ لفافے کے ساتھ جڑی ’چیک لسٹ‘ میں اصل ڈاکیومنٹس کے لف ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ 

ارشد شریف

بی بی سی کی ٹیم نے یہ لفافہ اور دستاویزات دیکھیں جن میں اصل کاغذات موجود نہیں تھے۔ اور جو نقل فراہم کی گئی تھی ان میں سے بھی کئی صفحات اصلی کاغذات کی نقول کے بجائے موبائل فون سے لی گئی تصاویر کے پرنٹس تھے۔

ارشد شریف کےاہلخانہ کے مطابق اُنھوں نے اس سلسلے میں نیروبی میں پاکستانی سفارتخانے سے رابطہ کیا اور ان سے اصلی دستاویزات اور لفافے کے کھلے ہونے سے متعلق استفسار کیا تو ’سفارتخانے کے اہلکاروں نے ہمیں بتایا کہ سفارتخانے سے اصلی دستاویزات پر مشتمل مہربند لفافہ میت کے ہمراہ بھیجا گیا تھا، اس لیے ہم (سفارتخانہ) نہیں جانتے کہ یہ لفافہ نیروبی ایئرپورٹ پر کھولا گیا یا دوحہ میں۔‘

خیال رہے کہ خاندانی ذرائع کے مطابق ارشد شریف کی میت کم از کم نو گھنٹے دوحہ میں موجود رہی۔ لفافے پر موجود رسیونگ لیٹر کے مطابق یہ دستاویزات میت کے ہمراہ نہیں تھیں۔

ارشد شریف کے اہلخانہ کی جانب سے بی بی سی کو دکھائے گئے لفافے پر لگی مہر کھلی ہوئی تھی جبکہ اس کے اوپر جسپاں سرٹیفیکٹ پر دو ایسے نکات بھی کنفرم کیے گئے تھے جن میں یہ درج تھا کہ اُنھیں وصول کرنے والا تصدیق کر رہا ہے کہ ’لفافہ مہربند ہے‘ اور اس میں ’موجود دستاویزات اصلی ہیں۔‘

اہلخانہ کے مطابق اُنھیں جب یہ دستاویزات دی گئیں تو ان پر یہ تمام نشان بھی موجود تھے جبکہ لفافے کے اندر موجود ایک کاغذ کی پشت پر پین سے ان کے ایک فیملی ممبر کا نمبر لکھا گیا تھا جو اس نمبر سے مختلف تھا جو کینیا سے جاری لیٹر میں پرنٹ کیا گیا تھا۔ 

ان کے خاندان کے مطابق ’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جس بھی مقام پر یہ لفافہ کھولا گیا، اس دوران ہی بے دھیانی میں یہ نمبر لفافے کے اندر موجود پیپرز پر درج کر دیا گیا۔‘

ارشد شریف

ارشد شریف کی اہلیہ سمعیہ ارشد نے بتایا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے وقت اُنھیں میت دکھانے کے لیے لے جایا گیا۔ تاہم ان کے مطابق ’یہ وقت اس قدر مشکل تھا کہ میں محض کچھ لمحوں کے لیے ان کا چہرہ دیکھ سکی اور پھر پیچھے ہٹ گئی۔ میں نے ان کے جسم کے باقی حصے نہیں دیکھے۔ میں چہرہ بھی صرف اس لیے دیکھنے گئی کہ مجھے عمر بھر یہ پچھتاوا نہ رہے کہ اپنے شوہر کا آخری بار چہرہ نہیں دیکھ پائی۔ اُنھیں اس حالت میں دیکھنا اتنا تکلیف دہ تھا کہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔‘ 

اُنھوں نے بتایا کہ اُنھوں نے وہاں موجود تمام افراد کو تصاویر لینے سے منع کر دیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک اور ڈاکٹر جو پاکستان کے ایک سرکاری اسپتال میں میڈیکولیگل افسر تعینات رہے ہیں، نے پمز سے کچھ دن پہلے میڈیا میں نظر آنے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق بتایا کہ ’یہ مکمل رپورٹ نہیں ہے۔ ایک نارمل رپورٹ بھی چھ صفحات پر مشتمل ہوتی ہے۔ جو نکات اس رپورٹ میں لکھے گئے ہیں وہ پوسٹ مارٹم کے بنیادی اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔

اس رپورٹ کے پہلے صفحے پر کہیں بھی ان خراشوں، چوٹوں اور فریکچرز کا ذکر نہیں کیا گیا ہے جو جسم پر سامنے نظر آ رہی ہوں۔ نہ ہی جسم کے مختلف حصوں میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں درج کیا گیا ہے۔ گولی کے نتیجے میں جو تبدیلیاں ہوئیں ان کا کہیں ذکر نہیں کیا گیا ہے جو کہ پوسٹ مارٹم کا بنیادی اصول ہے اور اسی سے تعین ہوتا ہے کہ موت کی وجہ کیا تھی۔‘

ارشد شریف کو گذشتہ ماہ نیروبی کے مضافاتی علاقے میں قتل کرنے کے بعد کینیا کی پولیس اس حوالے سے متعدد بار بیانات تبدیل کر چکی ہے۔ تاہم ان کی موت کے اگلے ہی دن پولیس نے یہ بیان جاری کیا تھا کہ یہ ایک ’غلط شناخت‘ کا معاملہ تھا۔ 

پولیس کے مطابق ارشد شریف کی گاڑی پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ پتھر لگا کر بنائے گئے ایک پولیس ناکے پر نہیں رکے۔ پولیس اس وقت ایک ایسی گاڑی کی تلاش میں تھی جس میں ایک بچے کے اغوا کی خبر تھی۔

تاہم پولیس نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے بعد ازاں یہ بھی کہا کہ ارشد شریف کی گاڑی سے ان پر فائرنگ کی گئی تھی اور جوابی فائرنگ میں وہ ہلاک ہوئے۔

لیکن کینیا کی پولیس کے ان دعووں پر پہلے دن سے ہی سوالات اٹھ رہے تھے۔ پاکستان نے تحقیق کے لیے دو تفتیش کار کینیا روانہ کیے جن کی واپسی کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات اب واضح ہو رہی ہے کہ ارشد شریف کی موت ایک غلط شناخت کا معاملہ نہیں بلکہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ایک قتل لگ رہا ہے۔

ارشد شریف

دوسری جانب ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس اور ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کی والدہ نے چیف جسٹس کو ایک خط بھی لکھا ہے۔ 

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی والدہ نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف جرم ہوا ہے اور ریاست کو ہی اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔ ’ہم سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا، نہ ہی ہمیں اس کیس پر پیشرفت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ہم گھریلو خواتین ہیں۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ یہ میرا پہلا اور آخری خط ہے جو میں نے چیف جسٹس کو لکھا ہے۔ اس کے بعد میں صرف خدا کی عدالت میں جاؤں گی۔ میرے بیٹے نے بھی ان سب کو بہت خط لکھے تھے، مگر کسی نے اس کی مدد کی نہ حفاظت کی۔‘

ان کی دوسری اہلیہ اور صحافی جویریہ صدیق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے ارشد شریف کی چھاتی کا اوپری حصہ اور چہرہ دیکھا تھا، وہ کہتی ہیں: ’میں اتنے صدمے میں تھی کہ مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ میں ڈاکٹر سے کہوں کہ مجھے ان کا پورا جسم دکھایا جائے۔ تاہم ان کے سینے پر گولی کے زخم کے سٹچز اور ان کا چہرہ اور سر میں نے دیکھا تھا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’گولی کے نشان تو تھے تاہم وہ جگہیں جو میں نے دیکھی ہیں وہاں تشدد کے نشان نہیں تھے۔ تاہم میں ان کے ہاتھ اور جسم کے باقی حصوں کو میں نہیں دیکھ پائی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اور خاندان کے دیگر افراد اس وقت صدمے سے گزر رہے ہیں اور پاکستانی حکام کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ اُنھیں دینے کے بجائے صحافیوں کو دی جا رہی ہے ’جو ارشد کے فیملی ممبرز کے جذبات اور تکلیف کا خیال کیے بغیر اُنھیں ٹی وی اور سوشل میڈیا پر چلا رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر اس معاملے پر خاصی بحث کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان رپورٹس کے ٹکڑوں میں لیک ہونے اور ارشد شریف کے ورثا کو ان رپورٹس سے دور رکھنے کے پیچھے بھی سیاست کی جا رہی ہے اور ’ارشد شریف کے قتل کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کی کوشش جاری ہے۔‘