چار بزرگ جن کا احترام سیکھنے میں ایک عمر صرف ہوئی

لیجئے صاحب! اس برس کی آخری صبح آن پہنچی۔ آج کا سورج ڈوبے گا تو کل نئے برس میں جاگیں گے۔ اس برہمن کی کوئی خبر نہیں جو غالب کو اچھے سال کی نوید دیا کرتا تھا۔ آخری مرتبہ اسلام آباد کی نواحی پہاڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے ہمارے عہد کے برہمنوں نے اقبال کو پڑھ لیا ہے اور اب اپنی خوش خبریاں ان جوانوں ہی کو سناتے ہیں جو ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں۔ ہمارے شاعر اختر حسین جعفری کو بھی دعویٰ تھا، ’اک ستارے میں ہے مکاں میرا‘۔ مگر ہمارے نجومی کے نجم اور ہیں، فلک اور ہے۔ چاند میری زمیں، پھول میرا وطن۔ یوں بھی نئے سال کی پیش گوئی میں ہمارے لئے رکھا ہی کیا ہے۔ گزرے برس میں ہمیں کیا اختیار تھا جو آنے والے برس کی راہ دیکھیں۔ اس سے بہتر ہے کہ کچھ دل کی باتیں کی جائیں۔ عمر رواں کی شفق نمودار ہو چکی۔ اب راز کھولنے میں کیا ہرج ہے۔ جو نشان تھے گہرے ہو چکے اور جو دھبے لگے، وہ اب مٹنے کے نہیں۔ آپ تو جانتے ہیں کہ آج کل ہمارے نوجوانوں میں بہت سا خروش بھرا ہے۔ کوئی چالیس برس پہلے ہم پر بھی یہ فصل گزری۔ ستر کی دہائی آخری دموں پر تھی۔ ہم تب بھی، آج کل ہی کی طرح منقسم تھے۔ نفرت میں بلند آہنگ اور محبت میں کوتاہ۔ جیسے اب ٹیلی وژن پر صحافی کسی کو فرشتوں کی قبا پہناتا ہے اور کسی کو ابلیس کے بہروپ میں بیان کرتا ہے، ہمارے لئے چوگان کا میدان اخبار اور کتاب کے صفحے پر سجتا تھا۔ اندھی عقیدت اور بے پناہ نفرت کا معیار یہ کہ جو پڑھا، اس پر ایمان لے آئے۔ اگر نوائے وقت پر نظر پڑ گئی تو بھٹو صاحب فسطائی ہو گئے۔ اگر امروز میں ’قسمت علمی و ادبی‘ سے گزر گئے تو مولوی ترقی کا دشمن ٹھہرا۔ کچے آنسو، چھچھلی لاگ۔ تو بھائی، درویش نے چھوٹتے ہی چار برے لوگ چھانٹ لئے۔ نام بتاؤں؟ الطاف حسن قریشی، مجیب الرحمٰن شامی، انتظار حسین اور عطا الحق قاسمی۔ بس ایک ایک جملے میں ان کے گناہ و ثواب کی میزان سمیٹ رکھی تھی۔

الطاف صاحب تو اس لئے معتوب تھے کہ جب مشرقی پاکستان میں ہم وطنوں کے خلاف سنہ 71ء کا فوجی آپریشن ہو رہا تھا تو انہوں نے ڈائجسٹ میں ’محبت کا زمزم بہ رہا ہے‘ کے عنوان سے ’کچھ لکھا تھا‘۔ مجیب الرحمٰن شامی اس لئے راندے گئے کہ انہوں نے جنرل ضیاء الحق سے انتخابات کے التوا کا مطالبہ کیا چنانچہ آمریت پسند ٹھہرے۔ عطا الحق قاسمی اپنے کالموں میں سرخوں پر چبھتے ہوئے فقرے کستے تھے مثلاً ایک جملہ یاد آیا، ’یہ لوگ مکمل طور پر روسیائے گئے ہیں‘۔ ہائے کس بلاغت سے ایک لفظ میں روس اور روسیاہ کو باندھا تھا۔ مگر تعصب میں آنکھ ہنر پر کہاں ٹھہرتی ہے۔ یہ ٹکڑا گویا نیزے کی انی بن گیا۔ اور باقی رہے انتظار حسین، تو انہیں اٹھتے بیٹھتے ترقی پسندوں بالخصوص کرشن چندر کے بخیے ادھیڑنے کی چیٹک تھی۔ انتظار صاحب ترقی پسند ادیبوں کو اکہرا کہتے تھے تو واللہ بہت ہی برا لگتا تھا۔ عزیزو! یہ ہمارے علم کا کل مال تھا۔ کمیت اب بھی وہی ہے، کیفیت بدل گئی ہے۔ اب کایا کلپ کا قصہ سنیے۔

الطاف حسن قریشی نے مضامیں کا وہ بدنام عالم سلسلہ 1971میں نہیں، 1966کی تیسری سہ ماہی میں لکھا تھا۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے اپنے چھ نکات فروری 1966ء میں پیش کئے تھے۔ 66ء اور 71ء میں پانچ برس کا وقفہ ہمارے مہربانوں نے دریا برد کر رکھا تھا۔ روبرو ملاقات کا موقع ملا تو جانا کہ الطاف حسن قریشی تو الطاف کی چھٹکی ہوئی چاندنی ہیں۔ صحافت میں ساٹھ برس کا سوم رس متھ چکے ہیں۔ ان سے سیکھنا چاہئے۔ اپنی بے بظاعتی پر ندامت ہوئی۔ مجیب الرحمٰن شامی سے نیاز بعد میں ہوئے، مارشل لا عدالت میں ان کا وہ بیان نظر سے گزر چکا تھا جسے آزاد پاکستان میں قول فیصل کا عنوان دینا چاہئے۔ 1998کے مئی میں شامی صاحب کی اصابت رائے کا مشاہدہ کیا تو دل سے سب کدورت دھل گئی اور گہرے احترام نے جنم لیا۔ انتظار حسین کے بارے میں اپنی غلطی کا احساس بہت پہلے ہو گیا تھا۔ درویش کا مبتدی ذہن اکہرے اور تہ دار کی تمیز ہی سے قاصر تھا۔ انتظار حسین ادب کی ٹکسال سے اترا ہوا کھرا سکہ تھے۔ عطا الحق قاسمی صاحب سے ہماری حقیقی ملاقات پرویز مشرف آمریت کی کٹھالی میں ہوئی۔ درد کی سانجھ میں بہت زور ہوتا ہے۔ ایک ہی نظر میں کشمیر، امرتسر اور قاسمی صاحب سے محبت ہو گئی۔ اب یہ بھی عرض کی جائے کہ نئے برس کی دہلیز پر کھڑے ہو کر آپ کو یہ حکایت کیوں سنائی۔

آج کل ہم تاریخ کے اس موڑ سے گزر رہے ہیں جہاں نفرت کی دیواریں اونچی اٹھائی جا رہی ہیں، گزرگاہوں میں کشادگی ایسی کمیاب کہ راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ مقبولیت پسند سیاست اور اکثریت کی زور آوری کے دن ہیں۔ امریکہ سے روس اور بھارت سے پاکستان تک، جمہوریت کے نام پر جمہوریت کو کچلا جا رہا ہے۔ پچھلی صدی کے تجربات نے ہمیں سکھایا کہ انسانیت کا حتمی راستہ نفرت کے اندھیرے سے نہیں، دوسروں کی تفہیم، اختلاف کے احترام اور ایک ایسی دنیا کے خواب سے نکلے گا جہاں سب کے لئے علم، رزق اور تخلیق کی فراوانی ہوگی۔ ہٹلر سارے یورپ پر قابض ہو گیا تھا۔ جاپان کا جنرل ٹوجو منچوریا تک جا پہنچا تھا، پھر کیا ہوا؟ نفرت کا شعلہ اندر سے جل بجھتا ہے۔ محبت کی پنیری پتھر سے سر نکال لیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم، ناانصافی اور جبر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ اپنے موقف پر قائم رہنا اور اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا اعلیٰ ترین نیکی ہے۔ یہ نیکی تعصب کے تاریک غار میں نہیں، شفاف مکالمے کے اجالے میں کلام کرتی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ایک دوسرے کی ذات سے الجھنے کے بجائے اپنی آنکھ انسانوں کے سانجھے نشیمن پر رکھی جائے۔ انسان شیطان یا فرشتہ نہیں ہوتے۔ تاریخ کا دریا پیچ دار راستوں سے گزرتا ہے۔ اگر آنے والے برس میں اس شعور سے چلیں گے تو اس عہد کی جاں گسل گھٹن تاریخ کی پھیلی ہوئی کتاب پر ماضی کا ایک نشان بن کر رہ جائے گی۔ ہمارے بعد آنے والی نسلیں اس کتاب کو روشن چراغوں کی بستی میں فخر سے پڑھیں گی۔