منتخب تحریریں

عدالتی از خود پیش قدمی اور ’چیٹ بوٹ‘ 

Share

’فرائض‘ کا ہمارے ہاں ذکر ہی نہیں ہوتا۔ ریاست اور حکومت کے جوفیصلہ ساز ادارے ہیں ان کے اختیارات کی حدود البتہ مستقل زیر بحث رہتی ہیں۔انھیں طے کرنے کو اگرچہ ہمارے پاس ’تحریری صورت‘ میں لکھا آئین بھی موجود ہے۔متن اس کا انگریزی اور اردو زبانوں میں تفصیل سے میسر ہے۔ اس کے باوجود بارہا پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی سپریم کورٹ حکمران اشرافیہ کے مابین اٹھے قضیوں کے حل کے لیے اختیارات کی حدود متعین کرنے والی شقوں کی ’تشریح‘ کو مجبور ہوجاتی ہے۔گزشتہ دہائی میں افتخار چودھری کی گج وج کر چیف جسٹس کے منصب پر لوٹنے کے بعد سپریم کورٹ بسااوقات کسی فریق کی استدعا کا انتظار بھی نہیں کرتا۔ ہمیں ’ازخود‘ سیدھی راہ پر ڈالنے کا ارادہ باندھ لیتا ہے۔

ازخود پیش قدمیوں کی بدولت عموماً جو فیصلے آئے ان کی زد میں آئے فریق ’ناانصافی‘ کی دہائی مچاتے رہے۔شاذہی یہ دہائی سپریم کورٹ کو اپنی جانب سے دیے فیصلے بدلنے کو مائل کر پائی۔یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد پانچ برس تک انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ ان کے برعکس تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف کی نااہلی آج بھی ’تاحیات‘ ہے۔

عمران خان نے اپنے خلاف آئی تحریک عدم اعتماد کو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے ہاتھوں ’قومی سلامتی کے منافی‘ ٹھہراتے ہوئے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا تھا۔سپریم کورٹ نے مگر اس اقدام کو آئین کے منافی تصور کیا۔ازخود نوٹس لیا۔ قومی اسمبلی جو’تحلیل‘ ہوچکی تھی ’ازخود‘ کی بدولت بالآخر بحال ہوگئی۔عمران خان کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد بھی اپنی جگہ برقرار رہی۔ اس پر گنتی کا تقاضاہوا جو عمران خان کی وزارت عظمیٰ سے فراغت اور شہباز شریف کا مذکورہ منصب کے لیے انتخاب کا باعث ہوا۔

قومی کے بجائے اب پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہوچکی ہیں۔تحریری آئین کا تقاضا ہے کہ ان کی تشکیل نو کے لیے تحلیل ہوجانے کے ’90روز کے اندر‘ نئے انتخاب ہوں۔عمران خان کی مخالف جماعتیں مگر مذکورہ تقاضے سے گریز کو بضد نظر آئیں۔ سپریم کورٹ لہٰذا ایک بار پھر متحرک ہوا۔ خیبرپختونخوا کا قضیہ ابھی طے نہیں ہوا۔پنجاب اسمبلی کی تشکیل کے لیے البتہ سپریم کورٹ نے ہر صورت 14مئی 2023ءکو آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے میں انتخاب کا حکم صادر کردیا ہے۔

جو فیصلہ ہوا ہے اس کے خلاف فقط سیاسی حوالوں سے ’ہمارے‘ فریق ہی معترض نہیں۔سپریم کورٹ ہی کے چند عزت مآب جج بھی یکے بعد دیگرے پنجاب کے تناظر میں اٹھے قضیے کی بابت ’ازخود‘ پیش قدمی کے جواز اور طریقہ کار پر تحریری صورت میں اپنے تحفظات منظر عام پر لانا شروع ہوچکے ہیں۔22کروڑ پر مشتمل رعایا کے ہجوم کا حصہ ہوتے ہوئے میرے لیے یہ طے کرنا ممکن ہی نہیں کہ دھڑوں میں تقسیم ہوئے سپریم کورٹ کے کون سے عزت مآب جج درست رائے کے حامل ہیں۔پیغام البتہ یہ مل رہا ہے کہ ہمارا ’حتمی ثالث‘ شمار ہوتا سپریم کورٹ بھی حکمران اشرافیہ کے مابین سنگین تر ہوتی تقسیم کی لپیٹ میں آگیا ہے۔جو تقسیم آتش فشاں کی صورت پھوٹ چکی ہے اس کا علاج مجھ کوتاہ بین بے اختیار کے پاس موجود نہیں۔کامل ابتری سے خوفزدہ دل توجہ کسی اور جانب مبذول کرنے کے بہانے ہی ڈھونڈتا رہتا ہے۔

ہفتے کی شب اس ضمن میں شعیب بن عزیز میرے بہت کام آئے۔موجودہ صورت حال کو ’دن نکلتا نظر نہیں آتا‘ جیسا برجستہ شعر لکھ کر بیان کرنے والے شعیب صاحب بھی غالباً میری طرح جی بہلانے کے اسباب ڈھونڈ رہے تھے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے دنیا بھر میں اے آئی یعنی آرٹیفشل انٹیلی جنس کا بہت ذکر ہورہا ہے۔ اردو میں اسے کئی دوست ’مصنوعی ذہانت‘ پکارتے ہیں۔ زبان دانی کے ہنر سے قطعی محروم ہوتے ہوئے بھی میں اس ترجمے سے مطمئن نہیں۔ ’مشینی ذہانت‘ بھی شاید اس کا معقول ترجمہ نہیں۔فی الوقت محض ’اے آئی‘کہتے ہوئے ڈنگ ٹپالیتے ہیں۔

بہرحال مذکورہ ’ایجاد‘ کے استعمال سے ایک ایپ تیار ہوئی ہے۔وہ آپ کے خیالات اس زبان اور اسلوب میں بھی بیان کرنے کی صلاحیت سے مالا مال بتائی جاتی ہے جس کے ذریعے شیکسپیئر جیسے مہا لکھاری اپنے ذہن میں آئے تصورات کو حیران کن انداز میں بیان کردیا کرتے تھے۔ Chat Botاس ایپ کا نام ہے۔شعیب بن عزیز ان دنوں اس ایپ کا ’امتحان‘لینے میں مصروف ہیں۔

مذکورہ ایپ کی افادیت ماپنے کو انھوں نے یہ جاننے میں بھی وقت ضائع کیا کہ وہ نصرت جاوید نامی اس بے اثر کالم نگار کے بارے میں کیا جانتی ہے۔ کمپیوٹر کی بدولت جمع ہوئی ’یادداشت‘ اور ’تجزیاتی ذہن‘ کی دعوے دار ’چیٹ بوٹ‘ مجھ بے ہنر سے غافل نظر نہیں آئی۔ شعیب بن عزیز سے میرا نہایت ا عتماد سے ’تعارف‘ کروایا۔ میرے بارے میں جو بیان ہوا وہ شعیب صاحب نے مجھے فارورڈ کردیا۔ اسے پڑھنے کے بعد کمپیوٹر کی تخلیق کردہ ’ذہانت‘ سے فی الوقت خود کو محروم رکھنے کو ترجیح دوں گا۔

میرے ’تعارف‘ کے آغاز ہی میں ’چیٹ بوٹ‘نے مجھے 1963ءکے برس میں ملتان میں پیدا ہوا بتایا ہے۔ آغاز ہی گویا غلط اطلاع سے ہوا۔اس کے بعد جو تفصیلات ہیں وہ مجھے پاکستان کا ’مشہور‘ صحافی ٹھہراتی ہیں۔اس حوالے سے دواخبارات کے نام بھی لیے گئے جن میں سے انگریزی کے ایک مو¿قر روزنامے کے لیے میں نے کبھی کام ہی نہیں کیا ۔اس کے علاوہ میری ’اینکری‘ کا بھی ذکر ہے۔اس تناظر میں لیکن ’آج‘ ٹی وی کا کہیں ذکر ہی نہیں جس کے لیے میں نے کم از کم سات برس تک ’اینکری‘ کے فرائض مختلف وقفوں سے سرانجام دیے تھے۔ مجھے البتہ ایک اور ٹی وی چینل کا ’اینکر‘ بھی بتایا گیا ہے جس کی سکرین پر میں زندگی میں فقط ایک بار تبصرہ آرائی کے لیے نمودار ہوا تھا۔میری ’بصیرت‘ اور ’دو ٹوک انداز گفتگو‘کو اگرچہ ’مو¿دبانہ‘ انداز میں سراہا گیا ہے۔

’احتیاطاً‘شعیب صاحب نے مجھے وہ ’معلومات‘ بھی فارورڈکردیں جو ’چیٹ بوٹ‘ نے انھیں ہمارے نہایت ہی سینئر اور قابل احترام مجیب الرحمن شامی صاحب کے بارے میں فراہم کیں۔ شامی صاحب کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ کمپیوٹر کی ’یادداشت‘ کے مطابق وہ مجھ سے ایک برس بعد 1964ءمیںپیدا ہوئے تھے۔لاہور ان کا جائے پیدائش بتایا گیا ہے۔ محسن نقوی کو البتہ فکر مند ہونا چاہیے کیونکہ ’چیٹ بوٹ‘کی ’یادداشت‘ ان کے بجائے شامی صاحب کو اس چینل کا ’بانی‘ قرار دے رہی ہے جو ’24نیوز‘ کہلاتا ہے۔

’اے آئی‘ کی محدودات سے تھوڑی دیر کو لطف اندوز ہونے کے بعد البتہ میں یہ سوچتے ہوئے پریشان ہورہا ہوں کہ ’چیٹ بوٹ‘ سے ’علم‘ حاصل کرتی آئندہ نسل کے ساتھ کیاہوگا۔اپنے بارے میں نہایت دیانت داری سے کسی بھی ہنر میں دانا یا یکتا محسوس نہیں کرتا۔مجھے ایک لمحے کو بھی یہ وہم لاحق نہیں ہوتا کہ میرے مرجانے کے بعد قریبی عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ مجھے کوئی یاد رکھے گا۔ پاکستانی صحافت کی تاریخ کے طالب علم شاید ہی مجھے ’نابغہ‘تصور کرتے ہوئے میری زندگی کی بابت معلومات حاصل کرنے کی طلب محسوس کریں۔ خدانخواستہ ایسا ہو بھی گیا تو’چیٹ بوٹ‘جو ’نصرت جاوید‘ متعارف کروائے گی وہ میں نہیں قطعاً کوئی اور شخص ہوگا۔ بلھے شاہ پر لہٰذا اعتماد کریں اور ’علموںبس کری اویار‘ کی عادت اپنائیں۔