قطعہ

رہا ہوں اس طرح انجان اپنی زندگانی میںکہ ہو معصوم سا کردار کوئی اک کہانی میںستم اس پر ہوا جب

غزل

اپنے سینے میں ہی خنجر کو اتارا ہم نے آستینوں میں چھپا سانپ جو مارا ہم نے وہ لکیروں پہ یقیں کر کے پریشاں ہی رہا  بگڑی تقدیر کو محنت سے سنوارا ہم نے جب مرے ساتھ نہ تھا کوئی تو اُس وقت میں بھی  اپنے سائے کو تسلسل سے پکارا ہم نے سخت جانی بھی رہی در پہ رہی مشکل بھی آسمانوں کے تلے وقت گزارا ہم نے کچھ تو آوارگی باقی ہی رہی پھر بھی فہیم اس کے کہنے پہ بھلے خود کو سدھارا ہم نے

خندہ لب

شنتو روح ہمیشہ مسکراتی ہے۔ یہ نقطہ شنتو دھرم کے بنیادی مذہبی عقائد میں شامل ہے۔ جاپان کا سرکاری مذہب

غزل

دھوکے کے بعد اب نہ محبت کروں گا میںتجھ سے بھی زندگی نہ شکایت کروں گا میں ٹوکوں گا باخدا

غزل

خود سے مجھ کو نہ ایسے مٹا دیجئے پیار کا کچھ تو میرے صلہ دیجئے مانتا ہوں کہ میں ان کے قابل نہیں  پھر بھی ایسے نہ مجھ کو سزا دیجئے دل سے میں نے بنایا ہے دل کا یہ گھر آیئے اور اس کو سجا دیجئے ہے رقیبوں کی محفل مگر ایک بار موڑیئے مت نظر، اک صدا دیجئیے گنگناتی تھیں شب بھر جسے چھت پہ تم وہ غزل اب ہمیں بھی سنا دیجئے ناسمجھ ہی سہی آپ کا ہے فہیم ہاتھ اب دوستی کا بڑھا دیجیے