غزل

ٹوٹ کر خواب جب سب بکھر جائیں گے جیتے جی اس گھڑی ہم بھی مر جائیں گے نا امیدی، اداسی، اذیت، گھٹن  دیکھنا ایک دن یہ گزر جائیں گے راستوں کا بھروسہ نہیں اب کوئی منزلوں کے بنا یہ کدھر جائیں گے زخم جتنے لگائے زمانہ مجھے  وہ نظر ڈال دے زخم بھر جائیں گے سی رکھا ہے لبوں کو تو کیا شیر ہیں  تیری چیخوں سے ہم کیسے ڈر جائیں گے عشق سمجھے نہیں ہیں ابھی تک فہیم سیکھ جائیں گے تو پھول دھر جائیں گے

قطعہ

رہا ہوں اس طرح انجان اپنی زندگانی میںکہ ہو معصوم سا کردار کوئی اک کہانی میںستم اس پر ہوا جب

غزل

اپنے سینے میں ہی خنجر کو اتارا ہم نے آستینوں میں چھپا سانپ جو مارا ہم نے وہ لکیروں پہ یقیں کر کے پریشاں ہی رہا  بگڑی تقدیر کو محنت سے سنوارا ہم نے جب مرے ساتھ نہ تھا کوئی تو اُس وقت میں بھی  اپنے سائے کو تسلسل سے پکارا ہم نے سخت جانی بھی رہی در پہ رہی مشکل بھی آسمانوں کے تلے وقت گزارا ہم نے کچھ تو آوارگی باقی ہی رہی پھر بھی فہیم اس کے کہنے پہ بھلے خود کو سدھارا ہم نے

خندہ لب

شنتو روح ہمیشہ مسکراتی ہے۔ یہ نقطہ شنتو دھرم کے بنیادی مذہبی عقائد میں شامل ہے۔ جاپان کا سرکاری مذہب

غزل

دھوکے کے بعد اب نہ محبت کروں گا میںتجھ سے بھی زندگی نہ شکایت کروں گا میں ٹوکوں گا باخدا

error: